کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نماز چھوڑنے پر وعید کا بیان - پانچویں خبر کا ذکر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ نماز کو اس کے واجب ہونے کے بعد ترک کرنے والا، خواہ اس کا وقت نکل جائے، کافر نہیں ہوتا کہ اس کا مال مسلمانوں کے لیے فیء بن جائے
حدیث نمبر: 1459
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : عَرَّسْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، فَلَمْ نَسْتَيْقِظْ حَتَّى آذَتْنَا الشَّمْسُ ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ليَأْخُذْ كُلُّ رَجُلٍ مِنْكُمْ رَاحِلَتَهُ ، ثُمَّ يَتَنَحَّى عَنْ هَذَا الِمَنْزِلِ ، ثُمَّ دَعَا بِالْمَاءِ فَتَوَضَّأَ ، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلاةُ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : فِي تَأْخِيرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلاةَ عَنِ الْوَقْتِ الَّذِي أَثْبَتَهُ إِلَى أَنْ خَرَجَ مِنَ الْوَادِي دَلِيلٌ صَحِيحٌ ، عَلَى أَنَّ تَارِكَ الصَّلاةِ إِلَى أَنْ يَخْرُجَ وَقْتُهَا لا يَكُونُ كَافِرًا ، إِذْ لَوْ كَانَ كَذَلِكَ لأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَدَاءِ الصَّلاةِ فِي وَقْتِ انْتِبَاهِهِمْ مِنْ مَنَامِهِمْ ، وَلَمْ يَأْمُرْهُمْ بِالتَّنَحِّي عَنِ الِمَنْزِلِ الَّذِي نَامُوا فِيهِ ، وَالْفَرْضُ لازِمٌ لَهُمْ قَدْ جَازَ وَقْتُهُ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ رات کے وقت پڑاؤ کیا ہم لوگ بیدار نہیں ہو سکے، یہاں تک کہ سورج نے ہمیں بیدار کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں ہر شخص اپنی سواری کو پکڑ لے اور پھر اس پڑاؤ کی جگہ سے کچھ ہٹ جائے۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوا کر وضو کیا پھر دو رکعت نماز ادا کی پھر نماز قائم کی گئی۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کیلئے جو وقت مقرر کیا تھا۔ آپ کا اس نماز کو تاخیر سے ادا کرنا یہاں تک کہ آپ کا اس وادی سے باہر چلے جانا اس بات کی صحیح دلیل ہے کہ نماز اتنی دیر تک ترک کرنے والا شخص کہ اس کا وقت رخصت ہو جائے، تو وہ کافر نہیں ہو گا کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کو ہدایت کرتے کہ وہ نماز کو اس وقت ادا کر لیں، جب نیند سے بیدار ہوئے تھے اور آپ انہیں یہ ہدایت نہ کرتے کہ اس جگہ سے کچھ ہٹ جائیں جہاں وہ سوئے رہ گئے تھے اور فرض ان کیلئے اس وقت لازم تھا۔ جب ان کا وقت بھی جائز ہو۔