کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز کے فرض ہونے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ ایک رکعت والی نماز جائز نہیں
حدیث نمبر: 1452
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفِيانُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الأَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ هِلالٍ ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ زَهْدَمٍ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ بِطَبَرِسْتَانَ ، فَقَالَ : أَيُّكُمْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةَ الْخَوْفِ ؟ فَقَالَ حُذَيْفَةُ : أَنَا ، قَالَ : فَقَامَ حُذَيْفَةُ " فَصَفَّ النَّاسَ خَلْفَهُ صِفِينَ : صَفًّا خَلْفَهُ ، وَصَفًّا مُوَازِيًا لِلْعَدُوِّ ، فَصَلَّى بِالَّذِينَ خَلْفَهُ رَكْعَةً ، ثُمَّ انْصَرَفَ هَؤُلاءِ مَكَانَ هَؤُلاءِ ، وَجَاءَ أُولَئِكَ ، فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً ، وَلَمْ يَقْضُوا " .
ثعلبہ بن زہدم بیان کرتے ہیں: ہم لوگ سعید بن العاص کے ساتھ طبرستان میں موجود تھے۔ انہوں نے دریافت کیا: آپ لوگوں میں سے کس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز خوف ادا کی ہے، تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: میں نے، راوی بیان کرتے ہیں: پھر سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے اپنے پیچھے لوگوں کی دو صفیں بنا لیں۔ ایک ان کے پیچھے کھڑی ہو گئی اور دوسری صف دشمن کے مدمقابل کھڑی ہو گئی۔ انہوں نے اپنے پیچھے موجود لوگوں کو ایک رکعت نماز پڑھائی پھر یہ لوگ جا کر ان کی جگہ کھڑے ہو گئے اور وہ لوگ آ گئے، تو انہوں نے انہیں بھی ایک رکعت نماز پڑھائی۔ ان لوگوں نے نماز کی قضا نہیں کی (نماز مکمل نہیں کی یعنی صرف ایک ہی رکعت پڑھی)۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1452
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (3/ 44)، «صحيح أبي داود» (1133). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، ثعلبة بن زهدم: مختلف في صحبته، وقد جزم بصحة صحبته المؤلف، وابن السكن، وابن مندة، وأبو نعيم الأصبهاني، وابن عبد البر، وابن الأثير، وذكره البخاري في «التاريخ» 2/ 174 وقال: قال الثوري: له صحبة، ولا يصح، وذكره مسلم في الطبقة الأولى من التابعين، وقال الترمذي: أدرك النبي صلى الله عليه وسلم، وعامة روايته عن الصحابة، وقال العجلي: تابعي ثقة، وباقي رجال السند على شرط الشيخين.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1449»