کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز کے فرض ہونے کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ اللہ جل وعلا نے کتاب میں نمازوں کی رکعات کی تعداد کو مجمل رکھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی وضاحت قول و فعل سے کرنے کی ذمہ داری سونپی
حدیث نمبر: 1451
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدٍ ، أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ : إِنَّا نَجْدُ صَلاةَ الْحَضَرِ ، وَصَلاةَ الْخَوْفِ فِي الْقُرْآنِ ، وَلا نَجْدُ صَلاةَ السَّفَرِ فِي الْقُرْآنِ ؟ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ : " يَا ابْنَ أَخِي ، إِنَّ اللَّهَ بَعَثَ إِلَيْنَا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلا نَعْلَمْ شَيْئًا ، فَإِنَّمَا نَفْعَلُ كَمَا رَأَيْنَاهُ يَفْعَلُ " .
امید بن عبداللہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: حضر کی نماز اور خوف کے عالم والی نماز کا ذکر ہم قرآن میں پاتے ہیں لیکن ہمیں سفر کی نماز کا ذکر قرآن میں نہیں ملتا تو سیدنا عبداللہ نے ان سے کہا: اے میرے بھتیجے! بیشکاللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ہماری طرف مبعوث کیا۔ ہمیں کسی چیز کا علم نہیں تھا ہم اسی طرح کرتے ہیں جس طرح ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1451
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «التعليق على ابن ماجه» (1/ 330)، وانظر (2724). تنبيه!! رقم (2724) = (2735) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1448»