کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز کے فرض ہونے کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی پر دن اور رات میں فرض نمازوں کی تعداد
حدیث نمبر: 1450
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَخَّرَ الصَّلاةَ يَوْمًا فِي إِمْرَتِهِ ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ أَخَّرَ الصَّلاةَ يَوْمًا وَهُوَ بِالْكُوفَةِ ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَبُو مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيُّ ، فَقَالَ: يَا مُغِيرَةُ مَا هَذَا؟ أَلَيْسَ قَدْ عَلَمْتَ أَنَّ جِبْرِيلَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ ، " نَزَلَ فَصَلَّى ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، ثُمَّ قَالَ: " بِهَذَا أُمِرْتُ " ، قَالَ: أَعْلَمْ مَا تُحَدِّثُ يَا عُرْوَةُ أَوْ إِنَّ جِبْرِيلَ أَقَامَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقْتَ الصَّلاةِ ، قَالَ: كَذَلِكَ كَانَ بَشِيرُ بْنُ أَبِي مَسْعُودٍ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ . قَالَ قَالَ عُرْوَةُ : وَلَقَدْ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ فِي حُجْرَتِهَا قَبْلَ أَنْ تَظْهَرَ " .
ابن شہاب بیان کرتے ہیں: ایک دن عمر بن عبدالعزیز نے اپنے عہد خلافت میں (یا گورنری کے زمانے میں) ایک نماز میں تاخیر کر دی۔ عروہ بن زبیر ان کے پاس آئے اور انہوں نے یہ بتایا کہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے ایک دن ایک نماز کو تاخیر سے ادا کیا۔ وہ اس وقت کوفہ میں (گورنر تھے) تو سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور بولے: اے مغیرہ! یہ آپ نے کیا کیا ہے؟ کیا آپ یہ بات نہیں جانتے کہ سیدنا جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے، تو انہوں نے نماز ادا کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی نماز ادا کی پھر انہوں نے نماز ادا کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی نماز ادا کی پھر انہوں نے نماز ادا کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی نماز ادا کی پھر انہوں نے نماز ادا کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی نماز ادا کی پھر انہوں نے نماز ادا کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی نماز ادا کی پھر انہوں نے بتایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کا حکم دیا گیا ہے۔ تو عمر بن عبدالعزیز نے کہا: اے عروہ! آپ غور کریں کہ آپ کیا بیان کر رہے ہیں۔ کیا سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نماز کا وقت قائم کریں گے۔ تو عروہ نے کہا: بشیر بن ابومسعود نے اپنے والد کے حوالے سے اسی طرح حدیث بیان کی ہے۔ عروہ بیان کرتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے یہ بات بتائی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز ادا کر لیتے تھے جبکہ دھوپ ابھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں ہی ہوتی تھی، اور بلند نہیں ہوئی ہوتی تھی۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1450
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (418 و 436): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1447»