کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز کے فرض ہونے کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ پانچ نمازیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرئیل علیہ السلام سے لیں
حدیث نمبر: 1448
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ كَانَ قَاعِدًا عَلَى بَابِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِي إِمَارَتِهِ عَلَى الْمَدِينَةِ ، وَمَعَهُ عُرْوَةُ ، فَأَخَّرَ عُمَرُ الْعَصْرَ شَيْئًا ، فَقَالَ لَهُ عُرْوَةُ : أَمَا إِنَّ جِبْرِيلَ نَزَلَ فَصَلَّى أَمَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ عُمَرُ : أَعْلَمْ مَا تَقُولُ يَا عُرْوَةُ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ بَشِيرَ بْنَ أَبِي مَسْعُودٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " نَزَلَ جِبْرِيلُ فَصَلَّى ، فَصَلَّيْتُ مَعَهُ ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ " ، فَحَسَبَ بِأَصَابِعِهِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ .
ابن شہاب کے بارے میں یہ بات منقول ہے وہ عمر بن عبدالعزیز کے مدینہ منورہ کا گورنر ہونے کے زمانے میں ان کے دروازے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کے ساتھ عروہ بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ عمر بن عبدالعزیز نے عصر کی نماز میں کچھ تاخیر کر دی تو عروہ نے ان سے کہا: سیدنا جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے نماز ادا کی، تو عمر بن عبدالعزیز نے کہا: اے عروہ! آپ دھیان کریں کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں، تو عروہ نے کہا: میں نے بشیر بن ابومسعود کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے۔ میں نے سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے وہ کہتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے انہوں نے نماز ادا کی میں نے ان کی اقتداء میں نماز ادا کی پھر میں نے ان کی اقتداء میں نماز ادا کی پھر میں نے ان کی اقتداء میں نماز ادا کی پھر میں نے ان کی اقتداء میں نماز ادا کی پھر میں نے ان کی اقتداء میں نماز ادا کی ۔“ انہوں نے اپنی انگلیوں پر شمار کر کے پانچ نمازوں کے بارے میں بتایا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1448
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما بعده. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، يزيد بن موهب: هو يزيد بن خالد بن يزيد بن عبد الله بن موهب، ثقة، وباقي السند على شرطهما.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1445»
حدیث نمبر: 1449
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ مِنْ كِتَابِهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ كَانَ قَاعِدًا عَلَى الِمَنْبَرِ ، فَأَخَّرَ الصَّلاةَ شَيْئًا ، فَقَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ : أَمَا إِنَّ جِبْرِيلَ قَدْ أَخْبَرَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَقْتِ الصَّلاةِ ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : اعْلَمْ مَا تَقُولُ ، فَقَالَ عُرْوَةُ : سَمِعْتُ بَشِيرَ بْنَ أَبِي مَسْعُودٍ يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيَّ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " نَزَلَ جِبْرِيلُ ، فَأَخْبَرَنِي بِوَقْتِ الصَّلاةِ ، فَصَلَّيْتُ مَعَهُ ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ " ، فَحَسَبَ بِأَصَابِعِهِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ ، " وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الظُّهْرَ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ ، وَرُبَّمَا أَخَّرَهَا حِينَ يَشْتَدُّ الْحَرُّ ، وَرَأَيْتُهُ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ بَيْضَاءُ قَبْلَ أَنْ تَدْخُلَهَا الصُّفْرَةُ ، فِينْصَرِفُ الرَّجُلُ مِنَ الصَّلاةِ ، فِيأْتِي ذَا الْحُلَيْفَةِ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ ، وَيُصَلِّي الْمَغْرِبَ حِينَ تَسْقُطُ الشَّمْسُ ، وَيُصَلِّي الْعِشَاءَ حِينَ يَسْوَدُّ الأُفُقُ ، وَرُبَّمَا أَخَّرَهُ حَتَّى يَجْتَمِعَ النَّاسُ ، وَصَلَّى الصُّبْحَ مَرَّةً بِغَلَسٍ ، وَصَلَّى مَرَّةً أُخْرَى فَأَسْفَرَ بِهَا ، ثُمَّ كَانَتْ صَلاتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ بِالْغَلَسِ حَتَّى مَاتَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَمْ يَعُدْ إِلَى أَنْ يُسْفِرَ " .
اسامہ بن زید نامی راوی بیان کرتے ہیں: ابن شہاب نے انہیں بتایا کہ ایک مرتبہ عمر بن عبدالعزیز منبر پر بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے نماز میں کچھ تاخیر کر دی تو عروہ بن زبیر نے یہ کہا: سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نمازوں کے اوقات کے بارے میں بتایا ہے، عمر بن عبدالعزیز نے ان سے کہا: آپ غور کریں کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں، تو عروہ نے کہا: میں نے بشیر بن ابومسعود کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے وہ کہتے ہیں میں نے سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے وہ کہتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا۔ ہے: ” جبرائیل نازل ہوئے انہوں نے مجھے نماز کے وقت کے بارے میں بتایا تو میں نے ان کے ہمراہ نماز ادا کی پھر میں نے ان کے ہمراہ نماز ادا کی پھر میں نے ان کے ہاں نماز ادا کی پھر میں نے ان کے ہمراہ نماز ادا کی پھر میں نے ان کے ہمراہ نماز ادا کی ۔“ راوی نے اپنی انگلیوں پر حساب کر کے پانچ نمازوں کے بارے میں بتایا۔ (راوی بیان کرتے ہیں) میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے ظہر کی نماز اس وقت ادا کی جب سورج ڈھل گیا تھا جب گرمی شدید ہوتی تھی، تو آپ بعض اوقات اس نماز کو تاخیر سے بھی ادا کرتے تھے اور میں نے آپ کو دیکھا ہے آپ عصر کی نماز اس وقت ادا کرتے تھے جب سورج بلند اور چمک دار ہوتا تھا۔ ابھی اس میں زردی شامل نہیں ہوئی ہوتی تھی، اور کوئی شخص نماز سے فارغ ہونے کے بعد سورج غروب ہونے سے ذوالحلیفہ جا سکتا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سورج غروب ہو جانے کے بعد مغرب کی نماز ادا کر لیتے تھے اور آپ عشاء کی نماز اس وقت ادا کرتے تھے جب اُفق سیاہ ہو جاتا تھا۔ بعض اوقات آپ اس نماز کو تاخیر سے ادا کرتے تھے، یہاں تک کہ لوگ اکٹھے ہو جاتے تھے۔ صبح کی نماز آپ کبھی اندھیرے میں ادا کر لیتے تھے اور کبھی روشنی میں ادا کرتے تھے پھر اس کے بعد آپ صبح کی نماز اندھیرے میں ہی ادا کرنے لگے، یہاں تک کہ (اسی معمول کے مطابق) آپ کا انتقال ہو گیا۔ آپ نے دوبارہ روشنی میں یہ نماز ادا نہیں کی۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1449
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (418). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي، أسامة بن زيد: هو الليثي المدني، قال الحافظ في «التقريب»: صدوق يهم، وهو من رجال مسلم، وباقي السند رجاله ثقات.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1446»