حدیث نمبر: 1447
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عِمْرَانَ الْجُرْجَانِيُّ ، بِحَلَبَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ نَصْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَجُلا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَمِ افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَى عِبَادِهِ مِنَ الصَّلاةِ ؟ قَالَ : " خَمْسُ صَلَوَاتٍ " ، قَالَ : هَلْ قَبْلَهُنَّ أَوْ بَعْدَهُنَّ شَيْءٌ ؟ قَالَ : " افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَى عِبَادِهِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ " فَقَالَ : هَلْ قَبْلَهُنَّ أَوْ بَعْدَهُنَّ شَيْءٌ ؟ قَالَ : " افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَى عِبَادِهِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ " ، قَالَ : فَحَلَفَ الرَّجُلُ بِاللَّهِ لا يَزِيدُ عَلَيْهِنَّ ، وَلا يَنْقُصُ مِنْهُنَّ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ صَدَقَ دَخَلَ الْجَنَّةَ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ أَنَسٌ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَسَمِعَ الْقِصَّةَ بِطُولِهَا عَنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ ، وَسَمِعَ بَعْضَ الْقِصَّةِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، فَالطُّرُقُ الثَّلاثُ كُلُّهَا صِحَاحٌ .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ!اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر کتنی نمازیں فرض کی ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پانچ نمازیں اس نے دریافت کیا: ان سے پہلے یا ان کے بعد کوئی اور چیز (یعنی مزید کوئی نماز) بھی لازم ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ اس نے عرض کی: ان سے پہلے یا ان کے بعد کچھ اور بھی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: تو اس شخص نے اللہ کے نام کی قسم اٹھائی کہ وہ ان پر کوئی اضافہ نہیں کرے گا، اور ان میں کوئی کمی نہیں کرے گا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” اگر اس نے سچ کہا: ہے، تو یہ جنت میں داخل ہو جائے گا ۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے یہ روایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے کہ انہوں نے یہ واقعہ تفصیل کے ساتھ سیدنا مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہ سے سنا ہے اور اس واقعہ کا کچھ حصہ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے سنا ہے، تو اس کے تینوں طرق مستند ہیں۔