کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: استنجا (نجاست دور کرنے) کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اگر آدمی رات کو پیشاب کرے اور اپنے ورد کے لیے کھڑے ہونے سے پہلے سونا چاہے تو استنجاء کے بعد اپنا چہرہ اور ہاتھ دھو لے
حدیث نمبر: 1445
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى خَتٌّ ، وَكَانَ كَخَيْرِ الرِّجَالِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَلَمْةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ كُرَيْبًا ، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ : " بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ : فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ ، فَبَالَ ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ، ثُمَّ نَامَ " .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں رات بسر کی میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ اُٹھے آپ نے پیشاب کیا پھر آپ نے اپنے چہرے کو دھویا اور پھر سو گئے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الطهارة / حدیث: 1445
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صفة الصلاة»: ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الصحيح، وخَتّ: بفتح المعجمة، وتشديد التاء المثناة، وفي الأصل: ابن خت، وهو خطأ، لأن «خت» لقب ليحيى بن موسى، لُقِّبَ به لأنها كلمة كانت تجري على لسانه.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1442»