کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: استنجا (نجاست دور کرنے) کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی کے لیے مستحب ہے کہ وہ خلاء سے نکلنے پر اللہ جل وعلا سے مغفرت مانگے
حدیث نمبر: 1444
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ : دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ ، فَسَمِعْتُهَا تَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " إِذَا خَرَجَ مِنَ الْخَلاءِ قَالَ : غُفْرَانَكَ " .
یوسف بن ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے ان کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلاء سے باہر تشریف لاتے تو یہ پڑھتے تھے غفرانک (یعنی میں تجھ سے تیری مغفرت طلب کرتا ہوں)
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الطهارة / حدیث: 1444
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (52)، «المشكاة» (356)، «صحيح أبي داود» (22). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن، يوسف بن أبي بردة، ذكره المؤلف في «الثقات» 7/ 638 ووثقه العجلي ص 485 والذهبي في «الكاشف» 3/ 297، وباقي رجال السند على شرطهما.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1441»