کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: استنجا (نجاست دور کرنے) کا بیان - اس وجہ کا ذکر کہ جس کی بنا پر ہڈی اور گوبر سے استنجاء کرنے سے منع کیا گیا
حدیث نمبر: 1432
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَاشِمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَلْقَمَةَ : هَلْ كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ شَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَيْلَةَ الْجِنِّ ؟ فَقَالَ عَلْقَمَةُ : أَنَا سَأَلْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ ، فَقُلْتُ : هَلْ شَهِدَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ ؟ فَقَالَ : " لا ، كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، فَفَقَدْنَاهُ ، فَالْتَمَسْنَاهُ فِي الأَوْدِيَةِ وَالشِّعَابِ ، فَقُلْنَا : اسْتُطِيرَ أَوِ اغْتِيلَ ، قَالَ : فَبِتْنَا بِشَرِّ لَيْلَةٍ بَاتَ بِهَا قَوْمٌ ، فَلَمْا أَصْبَحْنَا إِذَا هُوَ جَاءَ مِنْ قِبَلِ حِرَاءَ ، قَالَ : فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَدْنَاكَ فَطَلَبْنَاكَ ، فَلَمْ نَجِدْكَ ، فَبِتْنَا بِشَرِّ لَيْلَةٍ بَاتَ بِهَا قَوْمٌ ، فَقَالَ : " أَتَانِي دَاعِي الْجِنِّ ، فَذَهَبْتُ مَعَهُ فَقَرَأْتُ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ " ، قَالَ : فَانْطَلَقَ بِنَا ، فَأَرَانَا نِيرَانَهُمْ ، وَسَأَلُوهُ الزَّادَ ، فَقَالَ : " لَكُمْ كُلُّ عَظْمٍ ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ ، يَقَعُ فِي أَيْدِيكُمْ أَوْفَرَ مَا يَكُونُ لَحْمًا ، وَكُلُّ بَعْرٍ عَلَفٌ لِدَوَابِّكُمْ " ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَلا تَسْتَنْجُوا بِالْعَظْمِ ، وَلا بِالْبَعْرِ ، فَإِنَّهُ زَادُ إِخْوَانِكُمْ مِنَ الْجِنِّ " .
امام شعبی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے علقمہ سے سوال کیا: کیا جنات سے ملاقات کی رات سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، تو علقمہ نے بتایا میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ سوال کیا تھا۔ میں نے دریافت کیا: کیا جنوں سے ملاقات کی رات آپ میں سے کوئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، تو انہوں نے بتایا جی نہیں ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک رات موجود تھے۔ ہم نے آپ کو غیر موجود پایا ہم نے گھاٹیوں اور نشیبی علاقوں میں آپ کو تلاش کیا ہم نے یہ سوچا شاید آپ کو چپکے سے یا دھوکے کے ساتھ شہید کر دیا گیا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: ہماری وہ رات ایسے تھی جیسے کسی قوم نے سب سے زیادہ بری رات بسر کی ہو۔ جب صبح کا وقت ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غار حرا کی طرف سے تشریف لائے۔ راوی بیان کرتے ہیں: ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم نے آپ کو غیر موجود پایا۔ ہم نے آپ کو تلاش کیا آپ ہمیں نہیں ملے، تو ہم نے اس طرح رات بسر کی جس طرح کسی قوم نے انتہائی بری حالت میں بسر کی ہو گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس جنوں کی طرف سے ایک نمائندہ آیا تھا میں ان کے ساتھ چلا گیا۔ میں نے ان کے سامنے قرآن کی تلاوت کی۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ساتھ لے کر گئے اور آپ نے ہمیں ان کی آگ کے نشانات دکھائے۔ ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زاد راہ کی درخواست کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر وہ ہڈی جس پر اللہ کا ذکر کر دیا جائے وہ تمہارے ہاتھوں میں جب آئے گی اس پر پہلے سے زیادہ گوشت لگا ہوا ہو گا، اور ہر مینگنی تمہارے جانوروں کا چارا ہو گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (ہم سے) فرمایا تم لوگ ہڈی یا مینگنی کے ذریعے استنجا نہ کرو کیونکہ یہ تمہارے جنات بھائیوں کی خوراک ہے۔