کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: استنجا (نجاست دور کرنے) کا بیان - اس ممانعت کا ذکر کہ رفع حاجت کرنے والوں میں سے کوئی دوسرے کی عورت کو اس جگہ دیکھے اور اس سے بات کرے
حدیث نمبر: 1422
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سِنَانٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ هِلالٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا يَقْعُدِ الرَّجُلانِ عَلَى الْغَائِطِ يَتَحَدَّثَانِ ، يَرَى كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَوْرَةَ صَاحِبِهِ ، فَإِنَّ اللَّهَ يَمْقُتُ عَلَى ذَلِكَ " .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” دو آدمی اس طرح بیٹھ کر قضائے حاجت نہ کریں کہ وہ آپس میں بات چیت کر رہے ہوں اور ان میں سے ایک دوسرے کی شرم گاہ کو دیکھ رہا ہو، کیونکہاللہ تعالیٰ اس بات پر ناراض ہوتا ہے ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الطهارة / حدیث: 1422
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (3120). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده ضعيف، إسماعيل بن سنان: لم يوثقه غير المؤلف 6/ 39، وعكرمة بن عمار في روايته، عن يحيى بن أبي كثير اضطراب، ويحيى مدلس، وقد عنعن، وعياض بن هلال - وبعضهم يقول: هلال بن عياض، وهو مرجوح -: مجهول.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1419»