کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: استنجا (نجاست دور کرنے) کا بیان - اس دو تخصیصات میں سے ایک کا ذکر جو ہمارے ذکر کردہ اس لفظ کی عمومیت کو خاص کرتی ہیں
حدیث نمبر: 1418
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " رَقِيتُ فَوْقَ بَيْتِ حَفْصَةَ ، فَإِذَا أَنَا بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا عَلَى مَقْعَدَتِهِ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ ، مُسْتَدْبِرَ الشَّامِ " .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں۔ ایک مرتبہ میں سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر کی چھت پر چڑھا تو وہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم موجود تھے۔ آپ بیت الخلاء میں قبلہ کی طرف رخ کر کے اور شام کی طرف پیٹھ کر کے قضائے حاجت کر رہے تھے۔
حدیث نمبر: 1419
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا غَوْثُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ زِيَادٍ الْمِصْرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ الزُّبَيْدِيِّ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ ، فَدَعَا بِطَسْتٍ ، وَقَالَ لِلْجَارِيَةِ : اسْتُرِينِي ، فَسَتَرَتْهُ ، فَبَالَ فِيهِ ، ثُمَّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَنْهَى أَنْ يَبُولَ أَحَدُكُمْ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ " .
غوث بن سلیمان اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ ہم جمعہ کے دن سیدنا عبداللہ بن حارث زبیدی کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے ایک طشت منگوایا انہوں نے کنیز سے فرمایا تم میرے لئے پردہ کر دو۔ اس نے ان کے لئے پردہ کر دیا۔ انہوں نے اس طشت میں پیشاب کیا اور پھر یہ بات بیان کی۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: آپ نے اس بات سے منع کیا ہے، کوئی شخص قبلہ کی طرف رخ کر کے پیشاب کرے۔