کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: استنجا (نجاست دور کرنے) کا بیان - اس ممانعت کا ذکر کہ قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کرنے سے گوبر یا پیشاب کے وقت منع کیا گیا
حدیث نمبر: 1416
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا أَتَى أَحَدُكُمُ الْغَائِطَ ، فَلا يَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ ، وَلا يَسْتَدْبِرْهَا بِغَائِطٍ وَلا بَوْلٍ ، وَلَكِنْ شَرِّقُوا أَوْ غَرِّبُوا " ، قَالَ أَبُو أَيُّوبَ : " فَلَمْا قَدِمْنَا الشَّامَ وَجَدْنَا مَرَاحِيضَ قَدْ بُنِيَتْ نَحْوَ الْقِبْلَةِ ، فَكُنَّا نَنْحَرِفُ عَنْهَا وَنَسْتَغْفِرُ اللَّهَ " .
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” جب کوئی شخص قضائے حاجت کے لئے آئے، تو وہ پاخانہ یا پیشاب کرتے ہوئے قبلہ کی طرف رخ یا پیٹھ نہ کرے بلکہ (مدینہ منورہ کے حساب سے) مشرق یا مغرب کی طرف رخ کرے ۔“ سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب ہم شام آئے، تو وہاں ہمیں ایسے بیت الخلاء ملے جو قبلہ کی سمت میں بنائے ہوئے تھے، تو ہم لوگ ان میں تھواڑ مڑ کے بیٹھا کرتے تھے اوراللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 1417
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، وَالنُّعْمَانِ بْنِ رَاشِدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ بِبَوْلٍ ، وَلا غَائِطٍ ، وَلا تَسْتَدْبِرُوهَا ، وَلَكِنْ شَرِّقُوا أَوْ غَرِّبُوا " ، قَالَ أَبُو أَيُّوبَ : فَقَدِمْنَا الشَّامَ ، فَإِذَا مَرَاحِيضُ قَدْ صُنِعَتْ نَحْوَ الْقِبْلَةِ ، وَقَالَ النُّعْمَانُ : فَإِذَا مَرَافِيقُ قَدْ صُنِعَتْ نَحْوَ الْقِبْلَةِ ، قَالَ أَبُو أَيُّوبَ : فَنَنْحَرِفُ وَنَسْتَغْفِرُ اللَّهَ . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلَهُ : شَرِّقُوا أَوْ غَرِّبُوا لَفْظَةُ أَمْرٍ تُسْتَعْمَلُ عَلَى عُمُومَةٍ فِي بَعْضِ الأَعْمَالِ ، وَقَدْ يَخُصُّهُ خَبَرُ ابْنِ عُمَرَ بِأَنَّ هَذَا الأَمْرَ قُصِدَ بِهِ الصَّحَارِي دُونَ الْكُنُفِ وَالْمَوَاضِعِ الْمَسْتُورَةِ ، وَالتَّخْصِيصُ الثَّانِي الَّذِي هُوَ مِنَ الإِجْمَاعِ أَنَّ مَنْ كَانَتْ قِبْلَتُهُ فِي الْمَشْرِقِ أَوْ فِي الْمَغْرِبِ عَلَيْهِ أَنْ لا يَسْتَقْبِلَهَا وَلا يَسْتَدْبِرَهَا بِغَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ ، لأَنَّهَا قِبْلَتُهُ ، وَإِنَّمَا أُمِرَ أَنْ يَسْتَقْبِلَ أَوْ يَسْتَدْبِرَ ضِدَّ الْقِبْلَةِ عِنْدَ الْحَاجَةِ .
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” پیشاب یا پاخانہ کرتے ہوئے قبلہ کی طرف رخ یا پیٹھ نہ کرو بلکہ (مدینہ منورہ کے حساب سے) مشرق یا مغرب کی طرف رخ کرو ۔“ سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب ہم شام آئے، تو وہاں ایسے بیت الخلاء تھے جو قبلہ کی سمت میں بنے ہوئے تھے۔ نعمان نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں وہ ایسے بیت الخلاء تھے جو قبلہ کی سمت میں بنے ہوئے تھے سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، تو ہم (قبلہ سے) دوسری طرف منہ موڑ لیتے تھے اوراللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کیا کرتے تھے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ” تم مشرق یا مغرب کی طرف رخ کرو “ اس میں لفظی طور پر حکم دیا گیا ہے اور بعض اعمال میں اس کے عموم پر عمل کیا جائے گا، جبکہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے منقول روایت اس کے حکم کو مخصوص کر دیتی ہے کہ یہ حکم صحرا سے تعلق رکھتا ہے۔ بیت الخلاء یا پوشیدہ مقامات اس حکم میں داخل نہیں ہیں اور دوسری تخصیص وہ ہے، جو اجماع سے ثابت ہوتی ہے کہ جس شخص کا قبلہ مشرق یا مغرب کی سمت ہو اس شخص پر لازم ہے کہ وہ پاخانہ یا پیشاب کرتے ہوئے اس طرف رخ یا پیٹھ نہ کرے کیونکہ وہ اس کا قبلہ ہے اور آدمی کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ قضائے حاجت کرتے وقت قبلہ کی بجائے کسی دوسری طرف رخ یا پیٹھ کرے۔