کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: استنجا (نجاست دور کرنے) کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ رفع حاجت کے ارادے پر پردہ کرنا چاہیے
حدیث نمبر: 1410
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ السَّلامِ مَكْحُولٌ ، بِبَيْرُوتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سَيْفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ حُصَيْنٍ الْحِمْيَرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعْدِ الْخَيْرِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ ، مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ ، وَمَنْ أَتَى الْغَائِطَ فَلْيَسْتَتِرْ ، وَإِنْ لَمْ يَجِدْ إِلا كَثِيبًا مِنْ رَمْلٍ ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَلْعَبُ بِمَقَاعِدِ بَنِي آدَمَ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ” (استنجا کرتے ہوئے) جو شخص پتھر استعمال کرتا ہے اسے طاق تعداد میں استعمال کرنے چاہئیں اگر وہ ایسا کرتا ہے، تو اچھی بات ہے، اور جو شخص قضائے حاجت کے لئے جائے اسے پردہ کر لینا چاہئے اگر اسے پردہ کرنے کے لئے صرف ریت کا ٹیلہ ملتا ہے (تو اس سے ہی پردہ کرنا چاہئے)، کیونکہ شیطان اولاد آدم کی شرم گاہوں سے کھیلتا ہے ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الطهارة / حدیث: 1410
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - «ضعيف أبي داود» (8). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده ضعيف
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1407»