کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: استنجا (نجاست دور کرنے) کا بیان - اس بات کا ذکر کہ محدث کے لیے استنجاء کرنا جب وہ وضو کا ارادہ کرے
حدیث نمبر: 1405
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، بِبُسْتَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ آدَمَ بْنِ أَبِي إِيَاسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخَلاءَ ، فَأَتَيْتُهُ بِمَاءٍ فِيهِ تُورٍ أَوْ رَكْوَةٍ ، فَاسْتَنْجَى بِهِ ، وَمَسَحَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى الأَرْضِ ، فَغَسَلَهَا ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِإِنَاءٍ فَتَوَضَّأَ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لئے تشریف لے گئے میں ایک پیالے یا برتن میں پانی لے کر آپ کے پاس آیا، آپ نے اس کے ذریعے استنجاء کیا پھر آپ نے اپنا بایاں ہاتھ زمین پر پھیرا اور اسے دھو لیا پھر میں برتن میں (پانی لے کر) آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے وضو کیا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الطهارة / حدیث: 1405
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن - «صحيح أبي داود» (35). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده ضعيف. شريك: هو ابن عبد الله بن أبي شريك النخعي القاضي، سيئ الحفظ، وباقي رجاله ثقات.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1402»