کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نجاست کو پاک کرنے کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "اسے چھوڑ دو" سے مراد نرمی کے ساتھ تعلیم دینا ہے کہ وہ اللہ کے دین اور اس کے احکام سے ناواقف تھا
حدیث نمبر: 1401
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ عَمِّهِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدًا فِي الْمَسْجِدِ ، إِذْ دَخَلَ أَعْرَابِيٌّ ، فَقَعَدَ يَبُولُ ، فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَهْ مَهْ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تُزْرِمُوهُ " ، ثُمَّ دَعَاهُ ، فَقَالَ : " إِنَّ هَذِهِ الْمَسَاجِدَ لا تَصْلُحُ لِشَيْءٍ مِنَ الْقَذَرِ وَالْخَلاءِ " ، وَكَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا هِيَ لِقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ أَوْ ذِكْرِ اللَّهِ " ، ثُمَّ دَعَا بِدَلْوٍ مِنْ مَاءٍ فَصَبَّهُ عَلَيْهِ .
اسحاق بن عبداللہ اپنے چچا سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے۔ اس دوران ایک دیہاتی اندر آیا اور بیٹھ کر پیشاب کرنے لگا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے کہا: رکو رکو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اس کے پیشاب کرنے کے دوران اسے روکنے کی کوشش نہ کرو پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو بلوایا اور ارشاد فرمایا: ان مساجد کے اندر گندگی اور قضائے حاجت کرنا مناسب نہیں ہے، یا جو بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہاں قرآن کی تلاوت کی جاتی ہے۔ یا اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کا ایک ڈول منگوایا اور اس پر بہا دیا۔