کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نجاست کو پاک کرنے کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "پھر اسے پانی سے چھڑک دیا جائے" سے مراد اس کے اطراف کو چھڑکنا ہے، نہ کہ اس جگہ کو جو حیض کے خون سے دھویا گیا
حدیث نمبر: 1398
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمْةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الِمَنْذِرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّ امْرَأَةً ، قَالَتْ : " يَا رَسُولِ اللَّهِ ، مَا أَصْنَعُ بِمَا أَصَابَ ثَوْبِي مِنْ دَمِ الْحَيْضِ ؟ قَالَ : " حُتِّيهِ ، ثُمَّ اقْرُصِيهِ بِالْمَاءِ ، وَانْضَحِي مَا حَوْلَهُ " .
سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں: ایک عورت نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے جس کپڑے پر حیض کا خون لگ جاتا ہے۔ میں اس کے ساتھ کیا کروں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے کھرچ کر پانی کے ذریعے دھو لو اور اس کے ارد گرد کی جگہ پر پانی چھڑک لو۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الطهارة / حدیث: 1398
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح. إبراهيم بن الحجاج السامي: نسبه إلى سامة بن لؤي بن غالب، ثقة، أخرج له النسائي، وباقي السند رجاله رجال الصحيح.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1395»