کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نجاست اور اس کے پاک کرنے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو بعض لوگوں کو جو علم اس کے مآخذ سے نہیں سیکھتے، یہ وہم دلاتی ہے کہ ابن عیینہ کی یہ روایت معیوب یا موہوم ہے
حدیث نمبر: 1393
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْفَأْرَةِ تَقَعُ فِي السَّمْنِ ، فَقَالَ : " إِنْ كَانَ جَامِدًا فَأَلْقُوهَا وَمَا حَوْلَهَا ، وَإِنْ كَانَ مَائِعًا فَلا تَقْرَبُوهُ " ، يَعْنِي ذَائِبًا .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گھی میں گر جانے والے چوہے کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: اگر وہ گھی جما ہوا تھا، تو تم اس چوہے، اور اس کے ارد گرد کے گھی کو پھینک دو اور اگر وہ مائع تھا، تو تم اس کے قریب نہ جاؤ (راوی کہتے ہیں) یعنی اگر وہ پگھلا ہوا تھا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الطهارة / حدیث: 1393
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني شاذ - المصدر نفسه. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط ابن أبي السري هو محمد بن المتوكل العسقلاني، وثقه ابن معين، ولينه غير واحد، وقال المؤلف في «الثقات» 9/ 88: كان من الحفاظ، وقد توبع عليه، وباقي رجال الإسناد على شرطهما.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1390»