کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نجاست اور اس کے پاک کرنے کا بیان - اس خبر کا ذکر کہ آدمی کیا کرے جب اس کے برتن میں چوہا گر جائے
حدیث نمبر: 1392
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفِيانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْفَأْرَةِ تَمُوتُ فِي السَّمْنِ ، فَقَالَ : " إِنْ كَانَ جَامِدًا فَأَلْقُوهَا وَمَا حَوْلَهَا وَكُلُوهُ ، وَإِنْ كَانَ ذَائِبًا فَلا تَقْرَبُوهُ " .
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے چوہے کے بارے میں دریافت کیا گیا جو گھی میں مر جاتا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ گھی جما ہوا تھا، تو اس چوہے، اور اس کے آس پاس والے گھی کو پھینک کر (باقی رہ جانے والے) گھی کو کھا لو اور اگر وہ گھی پگھلا ہوا تھا، تو پھر تم اسے استعمال نہ کرو۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الطهارة / حدیث: 1392
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف بهذا التمام - «الضعيفة» (1532). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما، إلا أن فيه زيادة غريبة، وهي «وإن كان ذائبا فلا تقربوه» قد انفرد بها إسحاق بن إبراهيم - وهو ابن راهويه - عن ابن عيينة دون الحفاظ أصحابة كالإمام أحمد والحميدي ومسدد وقتيبة وغيرهم.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1389»