کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نجاست اور اس کے پاک کرنے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو واضح کرتی ہے کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرنیین کو اونٹ کا پیشاب پینے کی اجازت علاج کے لیے نہیں دی
حدیث نمبر: 1391
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ مُخَارِقٍ ، قَالَ : قَالَتْ أُمُّ سَلَمْةَ : اشْتَكَتِ ابْنَةٌ لِي ، فَنَبَذْتُ لَهَا فِي كُوزٍ ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ يَغْلِي ، فَقَالَ : " مَا هَذَا ؟ " فَقَالَتْ : إِنَّ ابْنَتِي اشْتَكَتْ فَنَبَذْنَا لَهَا هَذَا ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَجْعَلْ شِفَاءَكُمْ فِي حَرَامٍ " .
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں۔ میری ایک بیٹی بیمار ہو گئی میں نے اس کے لئے ایک کوزے میں نبیذ تیار کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، تو اس میں جوش آ چکا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: یہ کیا ہے؟ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: میری ایک بیٹی بیمار ہے ہم نے اس کے لئے نبیذ تیار کی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:اللہ تعالیٰ نے حرام میں تمہارے لئے شفا نہیں رکھی ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الطهارة / حدیث: 1391
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن لغيره - «غاية المرام» (30 و 66). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حسان بن مخارق: روى عنه اثنان، وترجمه البخاري 3/ 33، وابن أبي حاتم 3/ 235، فلم يذكرا فيه جرجا ولا تعديلا. وذكره المؤلف في «الثقات» 4/ 163، وباقي رجاله رجال الشيخين.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1388»