کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نجاست اور اس کے پاک کرنے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ عرنیین کو اونٹ کا پیشاب پینے کی اجازت علاج کے لیے دی گئی، نہ کہ اس کے طاہر ہونے کی وجہ سے
حدیث نمبر: 1389
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمْةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ سُوَيْدٍ الْحَضْرَمِيِّ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ بِأَرْضِنَا أَعْنَابًا نَعْتَصِرُهَا ، وَنَشْرَبُ مِنْهَا ، قَالَ : " لا تَشْرَبْ " ، قُلْتُ : أَفَنَشْفِي بِهَا الْمَرْضَى ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّمَا ذَلِكَ دَاءٌ ، وَلَيْسَ بِشِفَاءٍ " .
سیدنا طارق بن سوید حضرمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہمارے علاقے میں انگور ہوتے ہیں۔ ہم انہیں نچوڑ کر اسے پی لیتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اسے نہ پیو میں نے عرض کی: کیا ہم اس کے ذریعے اپنے بیماروں کو دوا دے سکتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ بیماری ہے شفا نہیں ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الطهارة / حدیث: 1389
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «غاية المرام» (65). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن من أجل سماك بن حرب غسان بن الربيع روى عنه جمع، وذكره المؤلف في «الثقات» 9/ 2، وقال الدارقطني: ضعيف، وقال مرة: صالح، وقد توبع.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1386»