کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نجاست اور اس کے پاک کرنے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو واضح کرتی ہے کہ جن جانوروں کا گوشت کھایا جاتا ہے، ان کا پیشاب نجس نہیں
حدیث نمبر: 1386
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمْةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَدِمَ أَعْرَابٌ مِنْ عُرَيْنَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاجْتَوَوَا الْمَدِينَةَ ، " فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا ، فَشَرِبُوا حَتَّى صَحُّوا ، فَقَتَلُوا رُعَاتَهَا وَاسْتَاقُوا الإِبِلَ ، فَبَعَثَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَلَبِهِمْ ، فَأُتِيَ بِهِمْ ، فَقَطَعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ " . قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ لأَنَسٍ : وَهُوَ يُحَدِّثُهُ بِكُفْرٍ أَوْ بِذَنْبٍ ؟ قَالَ : بِكُفْرٍ .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: عرینہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے کچھ دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ مدینہ منورہ کی آب و ہوا انہیں موافق نہیں آئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ ہدایت کی کہ وہ اونٹوں کا دودھ اور ان کا پیشاب پئیں ان لوگوں نے وہ پیا تو وہ صحت مند ہو گئے۔ انہوں نے اونٹوں کے چرواہے کو قتل کر دیا، اور اونٹوں کو ہانک کر لے گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلاش میں لوگ روانہ کئے۔ انہیں پکڑ کر لایا گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ اور پاؤں کٹوا دئیے اور ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھروا دیں۔ عبدالملک نامی راوی نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: کیا ان کے کفر کی وجہ سے ایسا کیا گیا تھا یا ان کے گناہ (قتل) کی وجہ سے؟ تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ان کے کفر کی وجہ سے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الطهارة / حدیث: 1386
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (177): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح. محمد بن وهب بن أبي كريمة: صدوق أخرج له النسائي، وباقي الإسناد رجاله رجال الصحيح. أبو عبد الرحيم: هو خالد بن أبي يزيد الحراني.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1383»
حدیث نمبر: 1387
أَخْبَرَنَا الْخَلِيلُ بْنُ أَحْمَدَ ابْنُ بِنْتِ تَمِيمِ بْنِ الِمَنْتَصِرِ ، بِوَاسِطَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ السُّكَّرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " أَمَرَ الْعُرَنِيِّينَ أَنْ يَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِ الإِبِلِ وَأَلْبَانِهَا " .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرینہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو یہ حکم دیا تھا کہ وہ اونٹوں کا دودھ اور پیشاب پئیں۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الطهارة / حدیث: 1387
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث قوي. شريك: هو ابن عبد الله القاضي - وإن كان سيء الحفظ - قد توبع وباقي رجاله ثقات. إسحاق الأزرق: هو إسحاق بن يوسف الأزرق، وسماك: هو ابن حرب.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1384»