کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نجاست اور اس کے پاک کرنے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اس جانور کا گوبر جس کا گوشت کھایا جاتا ہے، نجس نہیں
حدیث نمبر: 1383
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمْ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلالٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قِيلَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ : حَدِّثْنَا مِنْ شَأْنِ الْعُسْرَةِ ، قَالَ : خَرَجْنَا إِلَى تَبُوكَ فِي قَيْظٍ شَدِيدٍ ، فَنَزَلْنَا مَنْزِلا ، أَصَابَنَا فِيهِ عَطَشٌ ، حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّ رِقَابَنَا سَتَنْقَطِعُ ، حَتَّى إِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيَذْهَبُ يَلْتَمِسُ الْمَاءَ ، فَلا يَرْجِعُ حَتَّى نَظُنَّ أَنَّ رَقَبَتَهُ سَتَنْقَطِعُ ، حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَنْحَرُ بَعِيرَهُ فِيعْصِرُ فَرْثَهُ فِيشْرَبُهُ ، وَيَجْعَلُ مَا بَقِيَ عَلَى كَبِدِهِ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ عَوَّدَكَ اللَّهُ فِي الدُّعَاءِ خَيْرًا ، فَادْعُ لَنَا ، فَقَالَ : " أَتُحِبُّ ذَلِكَ ؟ " ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَرَفَعَ يَدَيْهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ يُرْجِعْهُمَا حَتَّى أَظَلَّتْ سَحَابَةٌ ، فَسَكَبَتْ ، فَمَلئُوا مَا مَعَهُمْ ، ثُمَّ ذَهَبْنَا نَنْظُرُ ، فَلَمْ نَجِدْهَا جَاوَزَتِ الْعَسْكَرَ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : " فِي وَضْعِ الْقَوْمِ عَلَى أَكْبَادِهِمْ مَا عَصَرُوا مِنْ فَرْثِ الإِبِلِ وَتَرْكِ أَمْرِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاهُمْ بَعْدَ ذَلِكَ بِغَسْلِ مَا أَصَابَ ذَلِكَ مِنْ أَبْدَانِهِمْ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ أَرْوَاثَ مَا يُؤْكَلُ لُحُومُهَا طَاهِرَةٌ " .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے یہ کہا: گیا آپ ہمیں غزوہ تبوک کے بارے میں کچھ بتائیے، تو انہوں نے بتایا کہ ہم شدید گرمی کے موسم میں تبوک کی طرف روانہ ہوئے ہم نے ایک جگہ پڑاؤ کیا۔ ہمیں پیاس لاحق ہو گئی یہاں تک کہ ہمیں یوں محسوس ہوا جیسے ہماری گردنیں کٹ جائیں گی (یعنی ہم پیاس کی شدت سے مر جائیں گے) یہاں تک کہ یہ عالم ہو گیا کہ ایک شخص پانی کی تلاش میں جاتا اور وہ واپس نہ آتا تو ہم یہ گمان کرتے کہ شاید وہ مر گیا ہے ایک شخص اپنے اونٹ کو قربان کرتا وہ اس کے گوبر کو نچوڑ کر اسے پیتا تھا اور باقی بچ جانے والے حصے کو اپنے جگر پر رکھ لیتا تھا۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ!اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا میں بھلائی رکھی ہے، تو آپ ہمارے لئے دعا کیجئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تم یہ چاہتے ہو انہوں نے عرض کی: جی ہاں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کر دیئے۔ ابھی آپ کے ہاتھ واپس نہیں آئے تھے کہ بادل نے سایہ کر دیا، اور بارش شروع ہو گئی۔ لوگوں نے اپنے پاس موجود سب چیزیں بھر لیں پھر اس کے بعد ہم نے اس بات کا جائزہ لیا۔ لشکر سے آگے کہیں بارش نہیں ہوئی (یعنی صرف لشکر کے اوپر بارش ہوئی تھی) (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) لوگوں کا اونٹ کے گوبر کا نچوڑے ہوئے پانی کو اپنے جگر پر رکھ لینا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ان لوگوں کو اپنے جسم پر لگی ہوئی اس چیز کو دھونے کا حکم نہ دینا۔ اس بات کی دلیل ہے کہ جن جانوروں کا گوشت کھایا جاتا ہے ان کا گوبر پاک ہوتا ہے۔