کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نجاست اور اس کے پاک کرنے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ سلیمان بن یسار نے یہ خبر عائشہ رضی اللہ عنہا سے نہیں سنی
حدیث نمبر: 1382
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، بِبُسْتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، قَالا : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ : " كُنْتُ أَغْسِلُ الْمَنِيَّ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيخْرُجُ إِلَى الصَّلاةِ ، وَإِنَّهُ لِيُرَى أَثَرُ الْبُقَعِ فِي ثَوْبِهِ " ، قَالَ الْحُلْوَانِيُّ فِي حَدِيثِهِ : حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ ، قَالَ : أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے جنابت (یعنی منی) کو دھو دیتی تھی، آپ نماز کے لئے تشریف لے جاتے تھے، تو پانی کا نشان آپ کے کپڑے پر موجود ہوتا تھا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے منی کو اس وقت دھوتی تھیں جب وہ تر ہوتی تھی کیونکہ اس صورت میں آدمی کو زیادہ پاکیزگی محسوس ہوتی ہے اور جب وہ خشک ہوتی تھی، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اسے کھرچ دیتی تھیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کپڑے میں نماز ادا کر لیتے تھے۔ ہم بھی اس کے مطابق فتوی دیتے ہیں اور ہم اس قول کو اختیار کرتے ہیں کہ جب منی تر ہو گی، ذہن کے اطمینان کیلئے اس کو دھو لیں گے اس وجہ سے نہیں کہ وہ ناپاک ہے اور جب منی خشک ہو تو سنت کی پیروی کرتے ہوئے اسے کھرچنے پر اکتفا کیا جائے۔