کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نجاست اور اس کے پاک کرنے کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی کے لیے جائز ہے کہ وہ اس کپڑے میں نماز پڑھے جسے منی لگے، خواہ اسے نہ دھویا جائے
حدیث نمبر: 1379
أَخْبَرَنَا شَبَابُ بْنُ صَالِحٍ ، بِوَاسِطَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، وَالأَسْوَدِ ، أَنَّ رَجُلا نَزَلَ بِعَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، فَأَصْبَحَ يَغْسِلُ ثَوْبَهُ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : " إِنَّمَا كَانَ يُجْزِيكَ إِنْ رَأَيْتَهُ أَنْ تَغْسِلَ مَكَانَهُ ، وَإِنْ لَمْ تَرَهُ نَضَحْتَ حَوْلَهُ ، لَقَدْ رَأَيْتُنِي أَفْرُكُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرْكًا ، فِيصَلِّي فِيهِ " .
علقمہ اور اسود بیان کرتے ہیں: ایک شخص اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں مہمان کے طور پر ٹھہرا۔ صبح کے وقت اس نے اپنے کپڑے (یعنی بچھونے) کو دھو لیا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تمہارے لئے یہ بھی جائز تھا کہ اگر تمہیں نجاست نظر آئی ہے، تو تم صرف اس کی جگہ کو دھو دو اور اگر وہ تمہیں نظر نہیں آ رہی تو تم اس کے آس پاس کی جگہ پر پانی چھڑک دو مجھے اپنے بارے میں یہ بات یاد ہے، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے (منی کو) کھرچ دیتی تھی، اور آپ اس کپڑے میں نماز ادا کر لیتے تھے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الطهارة / حدیث: 1379
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (397 - 398): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم. خالد (الأول): هو خالد بن عبد الله الواسطي، وخالد (الثاني): هو خالد بن مهران الحذاء، وأبو معشر: هو زياد بن كليب التميمي الحنظلي.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1376»