کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نجاست اور اس کے پاک کرنے کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے قول "پھر اسے پانی سے دھو لیا" سے مراد اس پر پانی چھڑکنا ہے
حدیث نمبر: 1373
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ الرَّيَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفِيانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ الأَسَدِيَّةِ ، قَالَتْ : " دَخَلْتُ بِابْنٍ لِي لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَبَالَ عَلَيْهِ ، فَدَعَا بِمَاءٍ ، فَرَشَّهُ عَلَيْهِ " .
سیده ام قيس بنت محصن اسدیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں اپنے بچے کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی جو کچھ کھاتا نہیں تھا۔ اس نے آپ پر پیشاب کر دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوا کر اس پر چھڑک دیا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الطهارة / حدیث: 1373
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (400). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1370»