کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: حیض اور استحاضہ کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ حائضہ کے ساتھ کھانا پینا اور اسے استعمال کرنا چاہیے، کیونکہ یہود ایسا نہیں کرتے
حدیث نمبر: 1362
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْوَاسِطِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمْةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ الْيَهُودَ كَانُوا إِذَا حَاضَتْ بَيْنَهُمُ امْرَأَةٌ أَخْرَجُوهَا مِنَ الْبُيُوتِ ، وَلَمْ يَأْكُلُوا مَعَهَا وَلَمْ يُشَارِبُوهَا ، وَلَمْ يُجَامِعُوهَا فِي الْبُيُوتِ ، فَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا : وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ ، قُلْ هُوَ أَذًى ، فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ سورة البقرة آية 222 ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اصْنَعُوا كُلَّ شَيْءٍ إِلا النِّكَاحَ " ، فَقَالَتِ الْيَهُودُ : مَا نَرَى هَذَا الرَّجُلَ يَدَعُ شَيْئًا مِنْ أَمْرِنَا إِلا يُخَالِفُنَا ، فَجَاءَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ ، وَعَبَّادُ بْنُ بِشْرٍ فَقَالا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْيَهُودُ تَقُولُ كَذَا وَكَذَا ، أَفَلا نَنْكِحُهُنَّ فِي الْمَحِيضِ ؟ قَالَ : فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ قَدْ وَجَدَ عَلَيْهِمَا ، فَخَرَجَا ، فَاسْتَقْبَلَتْهُ هَدْيَةٌ مِنْ لَبَنٍ ، فَبَعَثَ فِي أَثَرِهِمَا ، فَظَنَنَّا أَنَّهُ لَمْ يَجِدْ عَلَيْهِمَا ، فَسَقَاهُمَا .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: یہودیوں کا یہ معمول تھا کہ ان کے درمیان کسی عورت کو حیض آ جاتا تھا، تو وہ اسے اپنے گھر سے نکال دیتے تھے۔ (یعنی اس کے ساتھ کھاتے پیتے نہیں تھے) اور گھروں میں اس کے ساتھ نہیں ٹھہرتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا گیا، تواللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ” لوگ تم سے حیض کے بارے میں دریافت کرتے ہیں، تو فرما دو! وہ گندگی ہے تم لوگ حیض کے دوران عورتوں سے الگ رہو ۔“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بیوی کے ساتھ صحبت کرنے کے علاوہ تم سب کچھ کر سکتے ہو۔ اس پر یہودیوں نے کہا: ہم نے یہ بات نوٹ کی ہے، یہ صاحب ہمارے معاملے میں ہر بات پر مخالفت کرتے ہیں۔ سیدنا اسید بن حضیر اور عباد بن بشر آئے۔ ان دونوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! یہودیوں نے یہ بات کہی ہے، تو کیا ہم حیض کے دوران بیویوں کے ساتھ صحبت بھی نہ کر لیا کریں؟ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ سرخ ہو گیا، یہاں تک کہ ہم نے یہ گمان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں پر سخت ناراض ہوئے ہیں۔ یہ دونوں صاحبان چلے گئے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہدیہ کے طور پر دودھ پیش کیا گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو بلوایا۔ اس سے ہمیں اندازہ ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان پر سخت ناراض نہیں ہوئے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو (وہ دودھ پلوا دیا)