کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: موزوں اور دیگر (جوتوں یا پٹیوں وغیرہ) پر مسح کرنے کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ اس خبر میں لفظ "اور اس کی پیشانی پر مسح کیا" سلمان تیمی نے تنہا بیان کیا
حدیث نمبر: 1347
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ حُمَيْدًا ، قَالَ : حَدَّثَنِي بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِيهِ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، تَخَلَّفَ ، فَتَخَلَّفَ مَعَهُ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ ، فَلَمْا قَضَى حَاجَتَهُ ، قَالَ : هَلْ مَعَكَ مَاءٌ ؟ قُلْتُ : فَأَتَيْتُهُ بِالْمِطْهَرَةِ ، " فَغَسَلَ كَفِيهِ وَوَجْهَهُ ، ثُمَّ ذَهَبَ لِيَحْسِرَ عَنْ ذِرَاعَيْهِ ، فَضَاقَتْ بِهَا الْجُبَّةُ ، فَأَخْرَجَ يَدَهُ مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ ، فَأَلْقَاهَا عَلَى عَاتِقِهِ ، فَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ، وَمَسَحَ عَلَى خُفِيهِ وَعِمَامَتِهِ ، ثُمَّ رَكِبَ وَرَكِبْتُ مَعَهُ ، فَانْتَهَى إِلَى النَّاسِ ، وَقَدْ صَلَّى بِهِمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَكْعَةً ، فَلَمْا أَحَسَّ بِجَيْئَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ذَهَبَ لِيَتَأَخَّرَ ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ صَلِّ ، فَلَمْا قَضَى عَبْدُ الرَّحْمَنِ الصَّلاةَ ، قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُغِيرَةُ فَأَكْمَلا مَا سَبَقَهُمَا " .
حمزہ بن مغیرہ بن شعبہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (قافلے سے پیچھے (رہ گئے۔ آپ کے ہمراہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بھی پیچھے رہ گئے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قضائے حاجت کر لی تو آپ نے دریافت کیا: کیا تمہارے پاس پانی ہے۔ میں نے عرض کی: جی ہاں (ہے) میں پانی کا برتن لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ اور چہرے کو دھو لیا آپ بازوں دھونے لگے تو جبے کی آستین تنگ تھی , تو آپ نے نیچے سے اپنے بازو کو باہر نکالا اور جبے کو اپنے کندھے پر رکھ لیا پھر آپ نے اپنے دونوں بازو دھوئے پھر آپ نے اپنے موزوں اور عمامے پر مسح کیا پھر آپ سوار ہوئے آپ کے ہمراہ میں بھی سوار ہوا۔ ہم لوگوں تک پہنچے تو سیدنا عبدالرحمن بن عوف انہیں ایک رکعت پڑھا چکے تھے۔ جب انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری محسوس ہوئی تو وہ پیچھے ہٹنے لگے۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نماز پڑھتے رہو جب سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے نماز مکمل کر لی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا مغیرہ کھڑے ہوئے اور ان حضرات نے پہلے گزر جانے والی رکعت کو ادا کیا ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الطهارة / حدیث: 1347
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (138): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1344»