کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: موزوں اور دیگر (جوتوں یا پٹیوں وغیرہ) پر مسح کرنے کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا جوتوں پر مسح نفلی وضو میں تھا، نہ کہ اس وضو میں جو معلوم حدث سے واجب ہوتا ہے
حدیث نمبر: 1340
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ ، قَالَ : " صَلَّيْتُ مَعَ عَلِيٍّ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ الظُّهْرَ ، ثُمَّ انْطَلَقَ إِلَى مَجْلِسٍ كَانَ يَجْلِسُهُ فِي الرَّحَبَةِ ، فَقَعَدَ وَقَعَدْنَا حَوْلَهُ ، حَتَّى حَضَرَتِ الْعَصْرُ ، فَأُتِيَ بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ ، فَأَخَذَ مِنْهُ كَفًّا ، فَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ، وَمَسَحَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ، وَمَسَحَ بِرِجْلَيْهِ ، ثُمَّ قَامَ فَشَرِبَ فَضْلَ مَائِهِ ، ثُمَّ قَالَ : إِنِّي حُدِّثْتُ أَنَّ رِجَالا يَكْرَهُونَ أَنْ يَشْرَبَ أَحَدُهُمْ وَهُوَ قَائِمٌ ، وَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ كَمَا فَعَلْتُ ، وَهَذَا وُضُوءُ مَنْ لَمْ يُحْدِثْ " .
نزال بن سبرہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں ظہر کی نماز ادا کی پھر وہ اس محفل کی طرف تشریف لے گئے جو وہ کھلے میدان میں منعقد کرتے تھے۔ وہ وہاں تشریف فرما ہوئے ہم ان کے اردگرد بیٹھ گئے یہاں تک کہ عصر کی نماز کا وقت ہو گیا تو ایک برتن لایا گیا جس میں پانی موجود تھا۔ انہوں نے اس میں سے ایک چلو پانی لیا۔ اس سے کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اپنے چہرے اور دونوں بازوؤں پر مسح کیا۔ اپنے سر پر مسح کیا اور دونوں پاؤں پر مسح کر لیا پھر وہ کھڑے ہوئے انہوں نے باقی بچا ہوا پانی پی لیا پھر انہوں نے یہ بات ارشاد فرمائی۔ مجھے یہ بات بتائی گئی ہے کچھ لوگ اس بات کو ناپسند کرتے ہیں کہ ان میں سے کوئی ایک کھڑا ہو کر پانی پیئے جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے، جس طرح میں نے کیا ہے اور یہ اس شخص کا وضو ہے جو بے وضو نہ ہوا ہو (یعنی جس کا سابقہ وضو باقی ہو)