کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: تیمم کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی کے لیے مستحب ہے کہ وہ سلام کے جواب کے لیے تیمم کرے، خواہ وہ شہر میں ہو
حدیث نمبر: 1316
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَهُ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَقْبَلَ مِنَ الْغَائِطِ ، فَلَقِيَهُ رَجُلٌ عِنْدَ بِئْرِ جَمَلٍ ، فَسَلَمْ عَلَيْهِ ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَقْبَلَ عَلَى الْحَائِطِ ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى الْحَائِطِ ، ثُمَّ مَسَحَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ ، ثُمَّ رَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الرَّجُلِ السَّلامَ " .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کر کے تشریف لائے بحر جمل کے قریب آپ کا سامنا ایک شخص سے ہوا اس نے آپ کو سلام کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سلام کا جواب نہیں دیا۔ آپ دیوار کے پاس تشریف لائے آپ نے اپنا دست مبارک دیوار پر رکھا پھر آپ نے اپنے چہرے اور دونوں بازوؤں پر ہاتھ پھیرا (یعنی تیمم کیا اور) پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے سلام کا جواب دیا۔