کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: تیمم کا بیان - اس بات کا ذکر کہ جنب کے لیے جائز ہے کہ اگر شدید سردی کی وجہ سے غسل سے اسے اپنی جان کے ضیاع کا خوف ہو تو وہ وضو یا تیمم سے نماز پڑھ لے بغیر غسل کے
حدیث نمبر: 1315
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمْ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ كَانَ عَلَى سَرِيَّةٍ ، وَأَنَّهُ أَصَابَهُمْ بَرْدٌ شَدِيدٌ لَمْ يَرَوْا مِثْلَهُ ، فَخَرَجَ لِصَلاةِ الصُّبْحِ ، قَالَ : وَاللَّهِ لَقَدِ احْتَلَمْتُ الْبَارِحَةَ ، فَغَسَلَ مَغَابَتَهُ ، وَتَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلاةِ ، ثُمَّ صَلَّى بِهِمْ ، فَلَمْا قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، سَأَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ ، فَقَالَ : " كَيْفَ وَجَدْتُمْ عَمْرًا وَأَصْحَابَهُ ؟ " ، فَأَثْنَوْا عَلَيْهِ خَيْرًا ، وَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، صَلَّى بِنَا وَهُوَ جُنُبٌ ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَمْرٍو فَسَأَلَهُ ، فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ وَبِالَّذِي لَقِيَ مِنَ الْبَرْدِ ، وَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ اللَّهَ قَالَ : وَلا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ سورة النساء آية 29 ، وَلَوِ اغْتَسَلْتُ مُتُّ ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَمْرٍو .
ابوقیس جو سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں بیان کرتے ہیں: سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بھی ایک مہم پر تھے۔ لوگوں کو اتنی شدید سردی کا سامنا کرنا پڑا کہ اس طرح کی سردی انہوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ سیدنا عمرو بن العاص صبح کی نماز کے لئے تشریف لائے اور فرمایا گزشتہ رات مجھے احتلام ہو گیا تھا، تو انہوں نے اپنی شرم گاہ کو دھویا اور نماز کے وضو کی طرح وضو کر کے لوگوں کو نماز پڑھا دی۔ جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے دریافت کیا تم نے عمرو اور اس کے ساتھیوں کو کیسا پایا تو لوگوں نے ان کی تعریف کی اور یہ بات کہی۔ یا رسول اللہ انہوں نے جنابت کی حالت میں ہمیں نماز پڑھا دی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمرو کو بلوایا اور ان سے دریافت کیا، تو سیدنا عمرو نے آپ کو بتایا اور جس سردی کا سامنا کرنا پڑا اس کے بارے میں بتایا: انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ!اللہ تعالیٰ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ” تم اپنے آپ کو قتل نہ کرو “ اگر میں غسل کر لیتا تو میں مر جاتا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عمرو کی اس بات پر ہنس پڑے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الطهارة / حدیث: 1315
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (154)، و «صحيح أبي داود» (361). * [وَصَحَابته] قال الشيخ: في الأصل: (وأصحابه). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1312»