کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: تیمم کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ پانی ملنے والے جنب کو تیمم کے بعد اپنی جلد کو پانی سے چھونا لازم ہے
حدیث نمبر: 1312
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّيْرَفِي ، غُلامُ طَالُوتَ بْنِ عَبَّاد بِالْبَصْرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْجَحْدَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ ، قَالَ : اجْتَمَعَتْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَمٌ مِنْ غَنَمِ الصَّدَقَةِ ، فَقَالَ : " ابْدُ يَا أَبَا ذَرٍّ " ، قَالَ : فَبَدَوْتُ فِيهَا إِلَى الرَّبَذَةِ ، قَالَ : فَكَانَ يَأْتِي عَلَيَّ الْخَمْسُ وَالسِّتُّ وَأَنَا جُنُبٌ ، فَوَجَدْتُ فِي نَفْسِي ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى الْحُجْرَةِ ، فَلَمْا رَآنِي ، قَالَ : " مَا لَكَ يَا أَبَا ذَرٍّ ؟ " قَالَ : فَجَلَسْتُ ، قَالَ : " مَا لَكَ يَا أَبَا ذَرٍّ ، ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ ؟ " قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ جُنُبٌ ، قَالَ : فَأَمَرَ جَارِيَةً سَوْدَاءَ ، فَجَاءَتْ بِعُسٍّ فِيهِ مَاءٌ ، فَاسْتَتَرْتُ بِالْبَعِيرِ وَبِالثَّوْبِ ، فَاغْتَسَلْتُ ، فَكَأَنَّمَا وَضَعَ عَنِّي جَبَلا ، فَقَالَ : " ادْنُ فَإِنَّ الصَّعِيدَ الطَّيِّبَ وَضُوءُ الْمُسْلِمِ ، وَلَوْ عَشْرَ حِجَجٍ ، فَإِذَا وَجَدَ الْمَاءَ فَلْيُمِسَّ بَشَرَتَهُ الْمَاءَ " .
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صدقے کی بکریوں میں سے کچھ بکریاں اکٹھی ہو گئیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوذر تم بدویت کی زندگی بسر کرو۔ راوی کہتے ہیں میں انہیں لے کر ربذہ کے مقام پر آ گیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں پانچ یا چھ دن تک جنابت کی حالت میں رہا۔ مجھے بہت الجھن محسوس ہوتی تھی۔ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس وقت آپ حجرے کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے۔ جب آپ نے مجھے ملاحظہ کیا، تو دریافت کیا: اے ابوذر تجھے کیا ہوا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں بیٹھ گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: اے ابوذر کیا ہوا ہے۔ تیری ماں تجھے روئے میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! مجھے جنابت لاحق ہو گئی ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سیاہ کنیز کو حکم دیا وہ پانی کا برتن لے کر آئی۔ میں نے اونٹ کی اوٹ میں کپڑے کا پردہ کیا اور غسل کر لیا، تو مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میں نے اپنے اوپر سے پہاڑ اتار دیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آگے آ جاؤ پاک مٹی مسلمان کے لئے طہارت کے حصول کا ذریعہ ہے، اگرچہ دس سال گزر جائیں پھر جب وہ پانی پا لے تو اسے اپنی جلد پر پانی لگا لینا چاہئے۔ (یعنی غسل کر لینا چاہئے)