کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: تیمم کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ طاہر صعید پانی سے محروم شخص کا وضو ہے، چاہے اس پر کئی سال گزر جائیں
حدیث نمبر: 1311
أَخْبَرَنَا شَبَابُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : اجْتَمَعَتْ غَنِيمَةٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا أَبَا ذَرٍّ ، ابْدُ فِيهَا ، قَالَ : فَبَدَوْتُ فِيهَا إِلَى الرَّبَذَةِ ، فَكَانَتْ تُصِيبُنِي الْجَنَابَةُ ، فَأَمْكُثُ الْخَمْسَ وَالسِّتَّ ، فَدَخَلْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَبُو ذَرٍّ : فَسَكَتُّ ، ثُمَّ قَالَ : أَبُو ذَرٍّ ، ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ ، فَأَخْبَرْتُهُ ، فَدَعَا بِجَارِيَةٍ سَوْدَاءَ ، فَجَاءَتْ بِعُسٍّ مِنْ مَاءٍ ، فَسَتَرَتْنِي ، وَاسْتَتَرْتُ بِالرَّاحِلَةِ ، فَاغْتَسَلْتُ ، فَكَأَنَّهَا أَلْقَتْ عَنِّي جَبَلا ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الصَّعِيدُ الطَّيِّبُ وَضُوءُ الْمُسْلِمِ ، وَلَوْ إِلَى عَشْرِ سِنِينَ ، فَإِذَا وَجَدْتَ الْمَاءَ فَأَمْسِسْهُ جِلْدَكَ ، فَإِنَّ ذَلِكَ خَيْرٌ " .
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ بکریاں اکٹھی ہو گئیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے ابوذر! تم ان کے ہمراہ دیہات میں رہو۔ سیدنا ابوذر کہتے ہیں میں انہیں لے کر ربذہ کے مقام پر آ گیا۔ مجھے جنابت لاحق ہو گئی۔ میں پانچ یا چھ دن تک اسی حالت میں رہا۔ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا: ابوذر میں خاموش رہا پھر آپ نے فرمایا: اے ابوذر تمہاری ماں تمہیں روئے پھر میں نے آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سیاہ فام کنیز کو بلوایا وہ پانی کا ایک برتن لے کر آئی اور اس نے میرے لئے پردہ تان دیا۔ میں سواری کی اوٹ میں ہو گیا۔ میں نے غسل کیا، تو مجھے یوں محسوس ہوا کہ میں نے اپنے اوپر سے پہاڑ اتار دیا ہے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پاک مٹی مسلمان کے لئے طہارت کے حصول کا ذریعہ ہے۔ اگرچہ دس سال تک اسے (پانی نہ ملے) جب پانی ملے، تو پھر تم اسے اپنی جلد کے ساتھ مس کر لو (یعنی غسل کر لو) یہ زیادہ بہتر ہے ۔“