کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: تیمم کا بیان - اس بات کا ذکر کہ تیمم کے لیے ہاتھوں کو صعید پر مارنے کے بعد ان میں پھونک مارنا مستحب ہے
حدیث نمبر: 1309
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، وَعُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ ذَرٍّ ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلا أَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ : إِنِّي أَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدِ الْمَاءَ ، فَقَالَ عُمَرُ : لا تُصَلِّ ، فَقَالَ عَمَّارٌ : أَمَا تَذْكُرُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ أَنَا وَأَنْتَ فِي سَرِيَّةٍ فَأَجْنَبْنَا ، فَلَمْ نَجْدِ الْمَاءَ ، فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ ، وَأَمَّا أَنَا فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ فَصَلَّيْتُ ، فَلَمْا أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : " إِنَّمَا يَكْفِيكَ : وَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ إِلَى الأَرْضِ ، ثُمَّ نَفَخَ فِيهِمَا ، وَمَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَكَفِيهِ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : اللَّفْظُ لَمْحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ رَحِمَهُ اللَّهُ .
سیدنا عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا: مجھے جنابت لاحق ہو گئی ہے۔ مجھے پانی نہیں ملا تو انہوں نے فرمایا: تم نماز نہ پڑھو تو سیدنا عمار نے کہا: اے امیر المؤمنین کیا آپ کو یہ بات یاد نہیں ہے، جب میں اور آپ ایک مہم میں شریک تھے۔ ہمیں جنابت لاحق ہو گئی اور ہمیں پانی نہیں ملا تو آپ نے نماز ادا نہیں کی اور میں نے مٹی میں لوٹ پوٹ ہو کر نماز پڑھ لی جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لئے یہ کافی تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک زمین پر مارا دونوں ہاتھوں پر پھونک ماری۔ پھر ان دونوں کو چہرے اور دونوں بازوؤں پر پھیر لیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) روایت کے الفاظ حمد بن اسحاق (یعنی امام ابن خزیمہ) کے نقل کردہ ہیں۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الطهارة / حدیث: 1309
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (158)، «صحيح أبي داود» (351 - 353): ق. * [شُعْبَةُ] قال الشيخ: في الأصل: (سعيد). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1306»