کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: تیمم کا بیان - دوسری خبر کا ذکر جو ہمارے بیان کردہ کی صحت کو واضح کرتی ہے
حدیث نمبر: 1307
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، بِبُسْتَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِي مُوسَى ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرَّجُلُ يُجْنِبُ ، فَلا يَجِدُ الْمَاءَ يُصَلِّي ؟ فَقَالَ : تَسْمَعُ قَوْلَ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ لِعُمَرَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَنَا أَنَا وَأَنْتَ ، فَأَجْنَبْتُ ، فَتَمَعَّكْتُ بِالصَّعِيدِ ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ : " إِنَّمَا يَكْفِيكَ هَذَا : وَمَسَحَ وَجْهَهُ وَكَفِيهِ وَاحِدَةً " ، فَقَالَ : إِنِّي لَمْ أَرَ عُمَرَ قَنَعَ بِذَلِكَ ، فَقَالَ : كَيْفَ تَصْنَعُونَ بِهَذِهِ الآيَةِ ؟ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا سورة النساء آية 43 ، قَالَ : لَوْ رَخَّصْنَا لَهُمْ فِي هَذِهِ كَانَ أَحَدُهُمْ إِذَا وَجَدَ الْمَاءَ الْبَارِدَ يَمْسَحُ بِالصَّعِيدِ ، قَالَ الأَعْمَشُ : فَقُلْتُ لِشَقِيقٍ : مَا كَرِهَهُ إِلا لِهَذَا .
شقیق بیان کرتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے ساتھ موجود تھا، تو سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عبدالرحمن ایک شخص کو جنابت لاحق ہو گئی اور اسے پانی نہیں ملتا تو وہ نماز ادا کرے گا؟ پھر سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا آپ نے سیدنا عمار بن یاسر کا قول سنا تھا جو انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور آپ کو ایک مہم پر روانہ کیا تھا۔ میں جنابت کا شکار ہو گیا۔ میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہو گیا پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو آپ نے فرمایا: تمہارے لئے اس طرح کر لینا کافی تھا پھر آپ نے اپنے چہرے اور دونوں بازوؤں کا ایک مرتبہ مسح کیا۔ اس پر سیدنا عبداللہ نے فرمایا: میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو نہیں دیکھا کہ انہوں نے اس بات پر قناعت کی ہو، تو سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر آپ اس آیت کے بارے میں کیا کہیں گے۔ ” اور تمہیں پانی نہیں ملتا تم پاک مٹی کے ذریعے تیمم کر لو ۔“ تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر ہم لوگوں کو اس بارے میں رخصت دینا شروع کر دیں تو ان میں سے کسی ایک کو اگر پانی ٹھنڈا لگے گا، تو وہ مٹی سے مسح کر لیا کرے گا۔ اعمش نامی راوی کہتے ہیں میں نے شقیق سے کہا: کیا وہ (سیدنا ابن مسعود) اس وجہ سے اسے ناپسند کرتے تھے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الطهارة / حدیث: 1307
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - انظر (1301). تنبيه!! رقم (1301) = (1304) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1304»