کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: تیمم کا بیان - دوسری خبر کا ذکر جو واضح کرتی ہے کہ تیمم میں بازوؤ ں کا مسح کرنا واجب نہیں
حدیث نمبر: 1304
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَيَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالا : حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِي مُوسَى ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرَّجُلُ يُجْنِبُ فَلا يَجِدُ الْمَاءَ أَيُصَلِّي ؟ فَقَالَ : لا ، فَقَالَ : أَمَا تَذْكُرُ قَوْلَ عَمَّارٍ لِعُمَرَ : " بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَا وَأَنْتَ فَأَجْنَبْتُ فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : " كَانَ يَكْفِيكَ هَكَذَا : وَضَرَبَ بِيَدِهِ الأَرْضَ ، فَمَسَحَ وَجْهَهُ وَكَفِيهِ " ، فَقَالَ : لَمْ أَرَ عُمَرَ قَنَعَ بِذَلِكَ ، قَالَ : فَمَا تَصْنَعُ بِهَذِهِ الآيَةِ : فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا سورة النساء آية 43 ، فَقَالَ : أَمَا إِنَّا لَوْ رَخَّصْنَا لَهُمْ فِي هَذَا ، لَكَانَ أَحَدُهُمْ إِذَا وَجَدَ بَرْدَ الْمَاءِ تَيَمَّمَ بِالصَّعِيدِ ، زَادَ يَعْلَى : قَالَ الأَعْمَشُ : فَقُلْتُ لِشَقِيقٍ فَلَمْ يَكُنْ هَذَا إِلا لِهَذَا .
شقیق بیان کرتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور سیدنا موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابوعبدالرحمن! ایک شخص کو جنابت لاحق ہو جاتی ہے، اور اسے پانی نہیں ملتا تو کیا وہ نماز ادا کرے گا۔ سیدنا عبداللہ نے جواب دیا: جی نہیں۔ سیدنا ابوموسیٰ نے فرمایا: کیا آپ کو یہ بات یاد نہیں ہے، سیدنا عمار نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: تھا کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور آپ کو کسی جگہ بھیجا تھا، تو مجھے جنابت لاحق ہو گئی تھی، تو میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہو گیا پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، تو آپ نے فرمایا: تمہارے لئے اس طرح کر لینا کافی تھا۔ پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے اور انہیں اپنے چہرے اور دونوں بازوؤں پر پھیر لیا۔ تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو نہیں دیکھا۔ انہوں نے اس بیان پر قناعت کی ہو۔ تو سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: پھر آپ اس آیت کے بارے میں کیا کہیں گے: ” اور تمہیں پانی نہیں ملتا تو تم پاک مٹی سے تیمم کر لو ۔“ تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر ہم اس بارے میں لوگوں کو رخصت دینا شروع کر دیں تو ان دونوں میں سے کسی ایک شخص کو پانی ٹھنڈا لگے تو وہ مٹی کے ذریعے تیمم کر لیا کرے گا۔ یعلی نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے اعمش نے یہ بات بیان کی ہے، میں نے شقیق سے کہا: یہ حکم صرف اس کے لئے ہے۔