کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: تیمم کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ کحل، زرنیخ اور اس جیسی چیزوں سے تیمم جائز نہیں، صرف مٹی سے جو کہ صعید ہے
حدیث نمبر: 1301
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ ، قَالَ : " كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، وَإِنَّا سِرْنَا لَيْلَةً ، حَتَّى إِذَا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ وَقَعْنَا تِلْكَ الْوَقْعَةَ وَلا وَقْعَةَ أَحْلَى عِنْدَ الْمُسَافِرِ مِنْهَا ، فَمَا أَيْقَظَنَا إِلا حَرُّ الشَّمْسِ ، قَالَ : وَكَانَ أَوَّلُ مَنِ اسْتَيْقَظَ فُلانٌ ، ثُمَّ فُلانٌ ، ثُمَّ فُلانٌ ، وَكَانَ يُسَمِّيهِمْ أَبُو رَجَاءٍ وَنَسِيَهُمْ عَوْفٌ ، ثُمَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ الرَّابِعُ ، قَالَ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَامَ لَمْ نُوقِظْهُ حَتَّى يَكُونَ هُوَ يَسْتَيْقِظُ ، لأَنَّا لا نَدْرِي مَا يَحْدُثُ لَهُ فِي نَوْمِهِ ، قَالَ : فَلَمْا اسْتَيْقَظَ عُمَرُ وَرَأَى مَا أَصَابَ النَّاسَ ، قَالَ : وَكَانَ رَجُلا أَجْوَفَ جَلِيدًا ، قَالَ : فَكَبَّرَ وَرَفَعَ صَوْتَهُ ، فَمَا زَالَ يُكَبِّرُ وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ حَتَّى اسْتَيْقَظَ بِصَوْتِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْا اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، شَكَوَا الَّذِي أَصَابَهُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا ضَيْرَ ، أَوْ لا يَضِيرُ ارْتَحِلُوا " ، فَسَارَ غَيْرَ بَعِيدٍ ، ثُمَّ نَزَلَ فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ ، وَنُودِيَ بِالصَّلاةِ ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ ، فَلَمْا انْفَتَلَ مِنْ صَلاتِهِ ، إِذَا هُوَ بِرَجُلٍ مُعْتَزِلٍ لَمْ يُصَلِّ مَعَ الْقَوْمِ ، قَالَ : مَا مَنَعَكَ يَا فُلانُ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَ الْقَوْمِ ؟ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ وَلا مَاءَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَيْكَ بِالصَّعِيدِ فَإِنَّهُ يَكْفِيكَ ، ثُمَّ سَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاشْتَكَى إِلَيْهِ النَّاسُ الْعَطَشَ ، قَالَ : فَنَزَلَ فَدَعَا فُلانًا وَكَانَ يُسَمِّيهِ أَبُو رَجَاءٍ وَنَسِيَهُ عَوْفٌ وَدَعَا عَلِيًّا ، فَقَالَ : اذْهَبَا فَابْغِيَا لَنَا الْمَاءَ ، فَلَقِيَا امْرَأَةً بَيْنَ مَزَادَتَيْنِ أَوْ سَطِيحَتَيْنِ مِنْ مَاءٍ عَلَى بَعِيرٍ لَهَا ، فَقَالا لَهَا : أَيْنَ الْمَاءُ ؟ قَالَتْ : عَهْدِي بِالْمَاءِ أَمْسِ هَذِهِ السَّاعَةَ ، وَنَفَرُنَا خُلُوفٌ ، قَالَ : فَقَالا لَهَا : انْطَلِقِي إِذًا ، قَالَتْ : إِلَى أَيْنَ ؟ قَالا : إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : هَذَا الَّذِي يُقَالُ لَهُ الصَّابِي ؟ قَالا : هُوَ الَّذِي تَعْنِينَ ، فَانْطَلِقِي إِذًا ، فَجَاءَا بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَحَدَّثَاهُ الْحَدِيثَ ، قَالَ : فَاسْتَنْزَلُوهَا عَنْ بَعِيرِهَا ، وَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِإِنَاءٍ ، فَأَفْرَغَ فِيهِ مِنْ أَفْوَاهِ الْمَزَادَتَيْنِ ، أَوِ السَّطِيحَتَيْنِ ، وَأَوْكَأَ أَفْوَاهَهُمَا وَأَطْلَقَ الْعَزَالِي ، وَنُودِيَ فِي النَّاسِ ، أَنِ اسْتَقُوا وَاسْقُوا ، قَالَ : فَسَقَى مَنْ شَاءَ وَاسْتَقَى مَنْ شَاءَ ، وَكَانَ آخِرُ ذَلِكَ أَنْ أُعْطِيَ الَّذِي أَصَابَتْهُ الْجَنَابَةُ إِنَاءً مِنْ مَاءٍ ، فَقَالَ : اذْهَبْ فَأَفْرِغْهُ عَلَيْكَ ، قَالَ : وَهِيَ قَائِمَةٌ تَنْظُرُ إِلَى مَا يَفْعَلُ بِمَائِهَا ، قَالَ : وَايْمُ اللَّهِ لَقَدْ أُقْلِعَ عَنْهَا حِينَ أُقْلِعَ ، وَإِنَّهُ لَيُخَيَّلُ لَنَا أَنَّهَا أَشَدُّ مَلْئًا مِنْهَا حِينَ ابْتُدِئَ فِيهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اجْمَعُوا لَهَا طَعَامًا " ، قَالَ : فَجَمَعَ لَهَا مِنْ بَيْنِ عَجْوَةٍ وَدَقِيقَةٍ وَسَوِيقَةٍ ، حَتَّى جَمَعُوا لَهَا طَعَامًا كَثِيرًا ، وَجَعَلُوهُ فِي ثَوْبٍ ، وَحَمَلُوهَا عَلَى بَعِيرِهَا ، وَوَضَعُوا الثَّوْبَ بَيْنَ يَدَيْهَا ، قَالَ : فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَعْلَمْينَ أَنَّا وَاللَّهِ مَا رُزِئْنَا مِنْ مَائِكَ شَيْئًا ، وَلَكِنَّ اللَّه هُوَ سَقَانَا " ، قَالَ : فَأَتَتْ أَهْلَهَا وَقَدِ احْتَبَسَتْ عَلَيْهِمْ ، فَقَالُوا : مَا حَبَسَكِ يَا فُلانَةُ ؟ قَالَتِ : الْعَجَبُ ، لَقِيَنِي رَجُلانِ ، فَذَهَبَا بِي إِلَى هَذَا الَّذِي يُقَالُ لَهُ : الصَّابِي ، فَفَعَلَ بِي كَذَا وَكَذَا ، الَّذِي قَدْ كَانَ ، فَوَاللَّهِ إِنَّهُ لأَسْحَرُ مَنْ بَيْنَ هَذِهِ إِلَى هَذِهِ ، أَوْ إِنَّهُ لِرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَقًّا ، قَالَ : فَكَانَ الْمُسْلِمُونَ بَعْدَ ذَلِكَ يُغِيرُونَ عَلَى مَنْ حَوْلَهَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَلا يُصِيبُونَ الصِّرْمَ الَّذِي هِيَ فِيهِ ، فَقَالَتْ لِقَوْمِهَا : وَاللَّهِ هَؤُلاءِ الْقَوْمُ يَدَعُونَكُمْ عَمْدًا ، فَهَلْ لَكُمْ فِي الإِسْلامِ ؟ فَأَطَاعُوهَا فَدَخَلُوا فِي الإِسْلامِ " .
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔ ہم رات بھر سفر کرتے رہے، جب رات کا آخری حصہ ہوا تو ہمیں نیند نے آ لیا اور مسافر کے نزدیک نیند سے پیاری اور کوئی چیز نہیں ہوتی۔ ہمیں سورج کی تپش نے بیدار کیا۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: بیدار ہونے والوں میں سے سب سے پہلے فلاں شخص تھے پھر فلاں صاحب تھے اور پھر فلاں صاحب تھے۔ ابورجاء نامی راوی نے ان کے نام بھی بیان کئے تھے لیکن عوف نامی راوی ان کے ناموں کو بھول گئے پھر چوتھے بیدار ہونے والے فرد سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہوتے تھے، تو ہم آپ کو بیدار نہیں کرتے تھے۔ آپ خود ہی بیدار ہوتے تھے۔ اس کی وجہ یہ ہے، ہم یہ نہیں جان سکتے تھے کہ نیند کے دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا صورتحال پیش آ رہی ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے اور انہوں نے صورت حال کو دیکھا تو راوی بیان کرتے ہیں: وہ بلند آواز کے مالک ایک سخت مزاج شخص تھے۔ راوی کہتے ہیں انہوں نے بلند آواز میں تکبیر کہی اور مسلسل تکبیر کہتے رہے۔ ان کی تکبیر کی آواز بلند رہی، یہاں تک کہ ان کی آواز کی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہو گئے۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے، تو لوگوں نے پیش آنے والی صورت حال کی شکایت آپ کی خدمت میں کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کوئی نقصان نہیں ہے۔ یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے۔ تم لوگ روانہ ہو جاؤ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑا آگے گئے پھر آپ سواری سے نیچے اترے پھر آپ نے پانی منگوایا وضو کیا نماز کے لئے اذان دی گئی۔ آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے، تو ایک شخص الگ موجود تھا۔ اس نے لوگوں کے ساتھ نماز ادا نہیں کی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: اے فلاں کیا وجہ ہے، تم نے لوگوں کے ساتھ نماز ادا نہیں کی۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! مجھے جنابت لاحق ہو گئی تھی، اور (غسل کرنے کے لئے) پانی نہیں ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم پر مٹی کو استعمال کرنا لازم ہے یہ تمہارے لئے کافی ہو گی۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے لوگوں نے آپ کی خدمت میں پیاسے ہونے کی شکایت کی۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سواری سے نیچے اترے آپ نے فلاں صاحب کو بلوایا اس شخص کا نام ابورجاء نامی نے بیان کیا تھا لیکن عوف نامی راوی اسے بھول گئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھی بلایا اور ارشاد فرمایا: تم دونوں جاؤ اور ہمارے لئے پانی تلاش کرو (یہ دونوں حضرات روانہ ہو گئے) ان دونوں حضرات کا سامنا ایک خاتون سے ہوا جو اپنے اونٹ پر دو مشکیزوں کے درمیان سوار تھی۔ ان دونوں حضرات نے اس خاتون سے دریافت کیا کہ پانی کہاں ہے۔ اس نے جواب دیا: گزشتہ کل اسی وقت میں پانی کے پاس تھی (یعنی ایک دن کے فاصلے پر ہے) اور ہمارے مرد قبیلے میں موجود نہیں تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: ان دونوں حضرات نے اس خاتون سے کہا: پھر تم (ہمارے ساتھ) چلو۔ اس نے دریافت کیا: کیا ان دونوں حضرات نے جواب دیا: اللہ کے رسول کی طرف اس نے دریافت کیا: کیا یہی وہ شخص ہے جسے بے دین کہا جاتا ہے ان دونوں صاحبان نے فرمایا: وہ وہی ہیں، جو تم مراد لے رہی ہو۔ اب تم چل پڑو پھر یہ دونوں اس خاتون کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو پورے واقعے کے بارے میں بتایا۔ راوی بیان کرتے ہیں: اس خاتون کو اس کے اونٹ سے نیچے اتار لیا گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک برتن منگوایا اور مشکیزوں کے منہ سے اس میں پانی انڈیلا (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) آپ نے مشکیزے کے منہ کو بند رکھا اور اس کے نیچے کے سوراخ کو کھول دیا اور لوگوں میں یہ اعلان کر دیا گیا کہ تم لوگ خود بھی پانی حاصل کرو اور (اپنے جانوروں وغیرہ کو) بھی پلاؤ۔ راوی بیان کرتے ہیں، پھر جس نے چاہا اس نے پی لیا جس نے چاہا اس نے پلانے کے لئے حاصل کر لیا۔ سب سے آخر میں اس شخص کو پانی کا برتن دیا گیا جسے جنابت لاحق ہوئی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم جاؤ اور اسے اپنے جسم پر انڈیل لو۔ راوی بیان کرتے ہیں: وہ عورت کھڑی دیکھتی رہی۔ اس کے پانی کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: اللہ کی قسم! جب اس میں سے اتنا سارا پانی نکال لیا گیا، تو پھر بھی ہمیں یوں محسوس ہوا کہ شاید یہ مشکیزے پہلے سے زیادہ بھرے ہوئے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس عورت کے لئے کھانے کا سامان جمع کرو۔ راوی بیان کرتے ہیں: تو اس عورت کے لئے عجوہ کھجوریں اور ستو جمع کر لیے گئے، یہاں تک کہ اس کے لئے بہت سا اناج جمع ہو گیا اور لوگوں نے اسے ایک کپڑے میں ڈال دیا۔ اسے اس کے اونٹ پر سوار کر دیا، اور وہ کپڑا اس کے آگے رکھ دیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے فرمایا: تم یہ بات جانتی ہو؟ اللہ کی قسم! ہم نے تمہارے پانی میں کوئی کمی نہیں کی لیکناللہ تعالیٰ نے ہمیں سیراب کر دیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: وہ عورت اپنے گھر والوں کے پاس آئی جبکہ وہ کچھ تاخیر سے گئی تھی ان لوگوں نے دریافت کیا: اے فلاں تم کہاں رہ گئی تھی۔ اس نے جواب دیا: بڑی حیرانگی کی بات ہے مجھے دو لوگ ملے وہ مجھے ساتھ لے کر ان صاحب کے پاس چلے گئے جن کے بارے میں یہ کہا: جاتا ہے، وہ بے دین ہیں۔ انہوں نے میرے ساتھ اس طرح کا سلوک کیا یعنی اس چیز کے بارے میں بتایا جو ہو چکی تھی، اور کہا: اللہ کی قسم! وہ یہاں سے لے کر یہاں تک کے درمیانی حصے کے سب سے بڑے جادوگر ہیں یا پھر وہ واقعی اللہ کے رسول ہیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: اس کے بعد وہاں کے مسلمانوں نے آس پاس کے مشرکین پر حملے کئے لیکن اس بستی پر حملہ نہیں کیا جہاں وہ عورت رہتی تھی۔ اس عورت نے اپنی قوم سے کہا: اللہ کی قسم! یہ لوگ جان بوجھ کر تمہیں چھوڑ رہے ہیں تو کیا تم لوگ اسلام میں دلچسپی رکھتے ہو، تو ان لوگوں نے اس عورت کی بات مان لی اور اسلام میں داخل ہو گئے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الطهارة / حدیث: 1301
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (156): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما، عوف: هو ابن أبي جميلة الأعرابي، وأبو رجاء: هو عمران بن ملحان العطاردي البصري.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1298»
حدیث نمبر: 1302
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو رَجَاءٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ ، قَالَ : " كُنَّا فِي سَفَرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى إِذَا كُنَّا فِي آخِرِ اللَّيْلِ ، وَقَعْنَا تِلْكَ الْوَقْعَةَ وَلا وَقْعَةَ أَحْلَى عِنْدَ الْمُسَافِرِ مِنْهَا ، فَمَا أَيْقَظَنَا إِلا حَرُّ الشَّمْسِ ، فَاسْتَيْقَظَ فُلانٌ وَفُلانٌ وَكَانَ يُسَمِّيهِمْ أَبُو رَجَاءٍ وَنَسِيَهُمْ عَوْفٌ ، ثُمَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ الرَّابِعُ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَامَ لَمْ يُوقَظْ حَتَّى يَكُونَ هُوَ يَسْتَيْقِظُ ، لأَنَّا لا نَدْرِي مَا يَحْدُثُ لَهُ فِي النَّوْمِ ، فَلَمْا اسْتَيْقَظَ عُمَرُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَرَأَى مَا أَصَابَ النَّاسَ ، وَكَانَ رَجُلا جَلِيدًا ، فَكَبَّرَ وَرَفَعَ صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ ، فَمَا زَالَ يُكَبِّرُ وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ حَتَّى اسْتَيْقَظَ بِصَوْتِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْا اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَكَوْا إِلَيْهِ الَّذِي أَصَابَهُمْ ، فَقَالَ : لا يَضِيرُ ، فَارْتَحِلُوا ، وَارْتَحَلَ ، فَسَارَ غَيْرَ بَعِيدٍ ، ثُمَّ نَزَلَ فَدَعَا بِالْوَضُوءِ فَتَوَضَّأَ ، فَنُودِيَ بِالصَّلاةِ فَصَلَّى بِالنَّاسِ ، فَلَمْا انْفَتَلَ مِنْ صَلاتِهِ ، فَإِذَا هُوَ بِرَجُلٍ مُعْتَزِلٍ لَمْ يُصَلِّ مَعَ الْقَوْمِ ، فَقَالَ : مَا مَنَعَكَ يَا فُلانُ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَ الْقَوْمِ ؟ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ ، وَلا مَاءَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَيْكَ بِالصَّعِيدِ فَإِنَّهُ يَكْفِيكَ " ، ثُمَّ سَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَشَكَا النَّاسُ إِلَيْهِ الْعَطَشَ ، فَنَزَلَ فَدَعَا فُلانًا وَكَانَ يُسَمِّيهِ أَبُو رَجَاءٍ وَنَسِيَهُ عَوْفٌ ، وَدَعَا عَلِيًّا رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ ، وَقَالَ : اذْهَبَا فَأَتَيَا بِالْمَاءِ ، فَانْطَلَقَا امْرَأَةٌ بَيْنَ مَزَادَتَيْنِ ، أَوْ سَطِيحَتَيْنِ مِنْ مَاءٍ عَلَى بَعِيرٍ لَهَا ، وَقَالا لَهَا : أَيْنَ الْمَاءُ ؟ فَقَالَتْ : عَهْدِي بِالْمَاءِ أَمْسِ هَذِهِ السَّاعَةَ ، وَنَفَرُنَا خُلُوفٌ ، قَالا لَهَا : انْطَلِقِي ، قَالَتْ : إِلَى أَيْنَ ؟ قَالا : إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : هَذَا الَّذِي يُقَالُ لَهُ : الصَّابِي ؟ قَالا : هُوَ الَّذِي تَعْنِينَ ، فَانْطَلِقِي ، وَجَاءَا بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاسْتَنْزَلُوهَا عَنْ بَعِيرِهَا ، وَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِنَاءٍ ، فَأَفْرَغَ فِيهِ مِنْ أَفْوَاهِ الْمَزَادَتَيْنِ ، أَوِ السَّطِيحَتَيْنِ ، وَأَوْكَأَ أَفْوَاهَهُمَا ، وَأَطْلَقَ الْعَزَالِي ، وَنُودِيَ فِي النَّاسِ : أَنِ اسْتَقُوا وَاسْقُوا ، قَالَ : فَسَقَى مَنْ شَاءَ ، وَاسْتَسْقَى مَنْ شَاءَ ، وَكَانَ آخِرُ ذَلِكَ أَنْ أَعْطَى الَّذِي أَصَابَتْهُ الْجَنَابَةُ إِنَاءً مِنْ مَاءٍ ، فَقَالَ : " اذْهَبْ فَأَفْرِغْهُ عَلَيْكَ " ، قَالَ : وَهِيَ قَائِمَةٌ تَنْظُرُ إِلَى مَا يَفْعَلُ بِمَائِهَا ، قَالَ : وَايْمُ اللَّهِ ، لَقَدْ أُقْلِعَ عَنْهَا حِينَ أُقْلِعَ ، وَإِنَّهُ لَيُخَيَّلُ إِلَيْنَا أَنَّهَا أَشَدُّ مَلْئًا مِنْهَا حِينَ ابْتُدِئَ فِيهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اجْمَعُوا لَهَا طَعَامًا ، فَجَمَعَ لَهَا مِنْ تَمْرٍ وَعَجْوَةٍ وَدَقِيقَةٍ وَسَوِيقَةٍ ، حَتَّى جَمَعُوا لَهَا طَعَامًا كَثِيرًا ، وَجَعَلُوهُ فِي ثَوْبٍ وَحَمَلُوهَا عَلَى بَعِيرِهَا ، وَوَضَعُوا الثَّوْبَ الَّذِي فِيهِ الطَّعَامُ بَيْنَ يَدَيْهَا ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَعْلَمْينَ وَاللَّهِ مَا رَزَأْنَا مِنْ مَائِكِ شَيْئًا ، وَلَكِنَّ اللَّهَ هُوَ الَّذِي سَقَانَا ، فَأَتَتْ أَهْلَهَا وَقَدِ احْتَبَسَتْ عَنْهُمْ ، قَالُوا : مَا حَبَسَكِ يَا فُلانَةُ ؟ قَالَتِ : الْعَجَبُ ، لَقِيَنِي رَجُلانِ ، فَذَهَبَا بِي إِلَى هَذَا الَّذِي يُقَالُ لَهُ : الصَّابِي ، فَفَعَلَ بِي كَذَا وَكَذَا الَّذِي قَدْ كَانَ وَاللَّهِ إِنَّهُ لأَسْحَرُ مَنْ بَيْنَ هَذِهِ وَهَذِهِ ، وَقَالَتْ : بِأُصْبُعَيْهَا السَّبَّابَةُ الْوُسْطَى ، فَرَفَعَتْهُمَا إِلَى السَّمَاءِ وَالأَرْضِ ، أَوْ إِنَّهُ لَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقًّا ، فَكَانَ الْمُسْلِمُونَ بَعْدُ يُغِيرُونَ عَلَى مَنْ حَوْلَهَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ ، وَلا يُصِيبُونَ الصِّرْمَ الَّذِي هِيَ فِيهِمْ ، قَالَتْ يَوْمًا لِقَوْمِهَا : مَا أَرَى هَؤُلاءِ الْقَوْمُ يَدَعُونَكُمْ إِلا عَمْدًا ، فَهَلْ لَكُمْ فِي الإِسْلامِ ؟ فَأَطَاعُوهَا فَدَخَلُوا فِي الإِسْلامِ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَبُو رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيُّ عِمْرَانُ بْنُ تَيْمٍ ، مَاتَ وَهُوَ ابْنُ مِائَةٍ وَعِشْرِينَ سَنَةً .
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔ جب رات کا آخری حصہ آیا تو ہمیں نیند آ گئی اور مسافر کے نزدیک نیند سے زیادہ پیاری کوئی اور چیز نہیں ہوتی۔ ہمیں سورج کی تپش نے بیدار کیا فلاں، فلاں اور فلاں، بیدار ہوئے ابورجاء نامی راوی نے ان کا نام بیان کیا تھا لیکن عوف نامی راوی ان کا نام بھول گئے پھر چوتھے بیدار ہونے والے شخص سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سویا کرتے تھے، تو آپ کو بیدار نہیں کیا جاتا تھا، یہاں تک کہ آپ خود ہی بیدار ہوتے تھے۔ اس کی وجہ یہ ہے، ہم یہ نہیں جان سکتے تھے کہ نیند کے دوران آپ کے ساتھ کیا صورت حال پیش آ رہی ہے۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیدار ہوئےاللہ تعالیٰ کی رضا مندی ان پر ہو اور انہوں نے وہ چیز دیکھی جو لوگوں کو پیش آئی ہے وہ بلند آواز کے مالک تھے۔ انہوں نے تکبیر کہی اور تکبیر کہتے ہوئے آواز کو بلند کیا۔ وہ مسلسل تکبیر کہتے رہے اور بلند آواز میں تکبیر کہتے رہے یہاں تک کہ ان کی آواز کی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہو گئے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے، تو لوگوں نے پیش آنے والی صورت حال کی شکایت آپ کے سامنے کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی حرج نہیں تم لوگ روانہ ہو جاؤ پھر آپ روانہ ہوئے تھوڑا آگے جانے کے بعد آپ سواری سے اترے پھر آپ نے وضو کے لئے پانی منگوایا وضو کیا نماز کے لئے اذان دی گئی۔ آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ جب آپ لوگوں کو نماز پڑھا کر فارغ ہوئے، تو ایک شخص الگ موجود تھا، جس نے لوگوں کے ساتھ نماز ادا نہیں کی تھی۔ آپ نے دریافت کیا: اے فلاں کیا بات ہے، تم نے لوگوں کے ساتھ نماز نہیں ادا کی۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے جنابت لاحق ہو گئی تھی، اور پانی موجود نہیں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پر مٹی استعمال کرنا لازم ہے وہ تمہارے لئے کفایت کرے گی۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے لوگوں نے آپ کی خدمت میں پیاسے ہونے کی شکایت کی، تو آپ سواری سے نیچے اترے اور فلاں کو بلایا رجاء نامی راوی نے ان کا نام بیان کیا تھا لیکن عوف نامی راوی اسے بھول گئے۔ (راوی بیان کرتے ہیں) آپ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھی بلایا اور فرمایا تم دونوں جاؤ اور پانی لے کر آؤ۔ دونوں حضرات روانہ ہوئے ان کا سامنا ایک عورت سے ہوا جو اپنے اونٹ پر دو مشکیزوں کے درمیان سوار تھی (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) ان دونوں حضرات نے اس سے دریافت کیا پانی کہاں ہے۔ اس نے جواب دیا: گزشتہ دن اسی وقت میں پانی کے پاس موجود تھی۔ ہمارے قبیلے کے مرد موجود نہیں ہیں (اس لئے میں اتنی دور سے پانی لے کر آئی ہوں) ان دونوں حضرات نے اس سے کہا: تم چلو اس نے دریافت کیا: کہاں؟ ان دونوں حضرات نے جواب دیا: اللہ کے رسول کی طرف اس نے دریافت کیا: کیا یہ وہی صاحب ہیں، جن کے بارے میں یہ کہا: جاتا ہے، وہ بے دین ہیں ان دونوں صاحبان نے جواب دیا: یہ وہی ہیں، جو تم مراد لے رہی ہو تم چلو۔ یہ دونوں حضرات اس عورت کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ لوگوں نے اس عورت کو اس کے اونٹ سے نیچے اتارا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک برتن منگوایا۔ آپ نے مشکیزوں کے منہ سے پانی انڈیلا (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے منہ کو بند کر دیا۔ ان کے نیچے والے سوراخ کھول دیا۔ لوگوں میں اعلان کر دیا کہ وہ پانی حاصل کر لیں اور (جانوروں وغیرہ کو بھی) پانی پلائیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر جس نے چاہا اس نے پلایا اور جس نے چاہا پانی پی لیا سب سے آخر میں اس شخص کو دیا، جسے جنابت لاحق ہوئی تھی۔ پانی کا برتن دیا گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم جاؤ اور اسے اپنے اوپر بہا لو۔ راوی بیان کرتے ہیں: وہ عورت کھڑی دیکھتی رہی کہ اس کے پانی کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: اللہ کی قسم! اس میں سے جتنا بھی پانی نکلا اس کے بعد بھی ہمیں یوں محسوس ہوا تھا شاید وہ مشکیزے پہلے سے زیادہ بھرے ہوئے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس عورت کے لئے کھانے کا سامان اکٹھا کرو، تو اس عورت کے لئے عجوہ کھجوریں آٹا اور ستو اکٹھے کئے گئے، یہاں تک کہ لوگوں نے اس کے لئے بہت سا اناج اٹھا کر لیا۔ لوگوں نے اسے ایک کپڑے میں رکھا اور اس عورت کو اس کے اونٹ پر سوار کر کے، وہ تھیلا اس کے آگے رکھ دیا جس میں اناج موجود تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے فرمایا تم یہ بات جانتی ہو اللہ کی قسم! ہم نے تمہارے پانی میں کوئی کمی نہیں کی لیکناللہ تعالیٰ نے ہمیں سیراب کیا ہے، پھر وہ عورت اپنے اہل خانہ کے پاس آئی وہ تاخیر سے ان کے پاس پہنچی تھی، تو ان لوگوں نے دریافت کیا: اے فلانہ تمہیں کس چیز نے روک لیا تھا۔ وہ بولی: بڑی حیران کن بات ہے۔ مجھے دو آدمی ملے وہ مجھے ساتھ لے گئے اور ان صاحب کے پاس لے گئے جنہیں بے دین کہا: جاتا ہے، پھر انہوں نے میرے ساتھ اس، اس طرح کا سلوک کیا یعنی جو کچھ ہوا تھا (اس کو اس نے بیان کیا) اللہ کی قسم! یہاں سے لے کر یہاں تک کے درمیان موجود اس جگہ میں وہ سب سے بڑے جادوگر ہیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: اس عورت نے اپنی شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کو پہلے آسمان کی طرف اٹھایا۔ پھر زمین کی طرف کیا (اور یہ بات کہی) یا پھر وہ واقعی اللہ کے سچے رسول ہیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: اس کے بعد مسلمانوں نے اس کے آس پاس کے علاقوں میں موجود مشرکین پر حملے کئے لیکن اس بستی پر حملہ نہیں کیا جہاں وہ عورت رہتی تھی۔ ایک دن اس عورت نے اپنی قوم سے کہا: میرا یہ خیال ہے، یہ لوگ تم لوگوں کو جان بوجھ کر چھوڑ رہے ہیں، تو کیا تم لوگ اسلام میں دلچسپی رکھتے ہو، تو لوگوں نے اس کی بات مان لی اور اسلام میں داخل ہو گئے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابورجاء بن عطاردی کا نام عمران بن تیم ہے ان کا انتقال 120 سال کی عمر میں ہوا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الطهارة / حدیث: 1302
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - المصدر نفسه. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما سوى مسدد، فإنه من رجال البخاري.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1299»