کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: بچے ہوئے پانی (آثارِ استعمال) کے احکام کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ تمام درندوں کا سؤر طاہر ہے
حدیث نمبر: 1299
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ حُمَيْدَةَ بِنْتِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَنْ كَبْشَةَ بِنْتِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، وَكَانَتْ تَحْتَ ابْنِ أَبِي قَتَادَة ، أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ " دَخَلَ عَلَيْهَا ، فَسَكَبَتْ لَهُ وُضُوءًا ، فَجَاءَتْ هِرَّةٌ تَشْرَبُ ، فَأَصْغَى أَبُو قَتَادَةَ الإِنَاءَ ، فَشَرِبَتْ ، قَالَتْ كَبْشَةُ : فَرَآنِي أَنْظُرُ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : أَتَعْجَبِينَ يَا ابْنَةَ أَخِي ؟ فَقُلْتُ : نَعَمْ ، فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ ، إِنَّمَا هِيَ مِنَ الطَّوَّافِينَ عَلَيْكُمْ وَالطَّوَّافَاتِ " .
سیدہ کبشہ بنت کعب رضی اللہ عنہا جو سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے کی اہلیہ ہیں وہ بیان کرتی ہے: سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ ان کے ہاں تشریف لائے۔ انہوں نے ان کے لئے وضو کا پانی رکھا۔ ایک بلی آئی اور اس میں سے پینے لگی سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے برتن اس کی طرف کر دیا۔ اس بلی نے پانی پی لیا سیدہ کبشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے میری طرف دیکھا۔ میں ان کی طرف غور سے دیکھ رہی تھی، تو انہوں نے دریافت کیا: اے میری بھتیجی! کیا تم حیران ہو رہی ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں تو انہوں نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ” یہ (یعنی بلی) ناپاک نہیں ہے یہ تمہارے ہاں گھر میں آنے جانے والے جانوروں میں سے ایک ہے ۔“