کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: بچے ہوئے پانی (آثارِ استعمال) کے احکام کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ کتے کے منہ لگانے کے بعد برتن میں موجود چیز طاہر ہے، نجس نہیں، اور اس سے نفع اٹھایا جا سکتا ہے
حدیث نمبر: 1296
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ خَلِيلٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، وأبي رزين ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيُهْرِقْهُ ، ثُمَّ لِيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” جب کتا کسی شخص کے برتن میں منہ ڈال دے، تو وہ پانی کو بہا دے پھر اسے سات مرتبہ دھو لے ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الطهارة / حدیث: 1296
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (24): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الصحيح، أبو صالح: هو ذكوان السمان المدني، وأبو رزين: هو مسعود بن مالك الأسدي.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1293»