کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: بچے ہوئے پانی (آثارِ استعمال) کے احکام کا بیان - اس میں اس روایت کا ذکر ہے جو اس قول کو باطل کرتی ہے جس میں کہا گیا کہ حائضہ عورت کا بچا ہوا پانی ناپاک ہے۔
حدیث نمبر: 1293
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، وَسُفِيانَ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كُنْتُ أَضَعُ الإِنَاءَ عَلَى فِي وَأَنَا حَائِضٌ ، ثُمَّ أُنَاوِلُهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيضَعُ فَاهُ عَلَى مَوْضِعِ فِي ، وَآخُذُ الْعَرْقَ وَأَنَا حَائِضٌ ، ثُمَّ أُنَاوِلُهُ فِيضَعُ فَاهُ عَلَى مَوْضِعِ فِي " .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں حیض کی حالت میں برتن اپنے منہ کے ساتھ لگاتی تھی، پھر میں اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھا دیتی تھی، تو آپ اپنا منہ مبارک اسی جگہ پر رکھتے تھے جہاں میں نے منہ رکھا ہوتا تھا۔ میں حیض کی حالت میں ہڈی (والا گوشت) لے کر (اسے کھا کے) پھر اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھا دیتی تھی، تو آپ اپنا منہ اسی جگہ رکھتے تھے جہاں میں نے اپنا منہ رکھا تھا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الطهارة / حدیث: 1293
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (252): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، سفيان: هو الثوري.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1290»