کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: بچے ہوئے پانی (آثارِ استعمال) کے احکام کا بیان - اس باب میں اس بات کا ذکر ہے کہ جس کنویں سے پانی نکالا جاتا ہو، اس میں کسی شخص کے کلی کرنے کو مباح قرار دیا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 1292
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ " أَنَّهُ عَقَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَعَقَلَ مَجَّةً مَجَّهَا مِنْ دَلْوٍ فِي بِئْرٍ فِي دَارِهِمْ " .
سیدنا محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات یاد ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھر میں موجود کنویں سے ڈول میں پانی لے کر اس کے ذریعے کلی کی تھی۔