کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: مردار کے چمڑے کے احکام کا بیان - اس خبر کا ذکر کہ آدمی کے لیے جائز ہے کہ وہ ذکاة سے حلال ہونے والی کھالوں سے نفع اٹھائے اگر وہ دباغت کی جائیں یا مردار ہوں
حدیث نمبر: 1289
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا سُفِيانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ ، قَالَ : مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِشَاةٍ مَيْتَةٍ ، فَقَالَ : " أَلا أَخَذُوا إِهَابِهَا ، فَدَبَغُوهُ فَانْتَفَعُوا بِهِ ؟ فَقَالُوا : إِنَّهَا مَيْتَةٌ ، فَقَالَ : إِنَّمَا حُرِّمَ أَكْلُهَا " .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سیدنا میمونہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مردار بکری کے پاس سے گزرے تو آپ نے ارشاد فرمایا: لوگوں نے اس کی کھال حاصل کر کے اس کی دباغت حاصل کر کے اس سے نفع حاصل کیوں نہیں کیا۔ لوگوں نے عرض کی: یہ مردار ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے کھانے کو حرام قرار دیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الطهارة / حدیث: 1289
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر (1282). تنبيه!! رقم (1282) = (1285) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1286»