کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: برتنوں کے احکام کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ ان چیزوں کا حکم جو ہم نے بیان کیا، بعض رات کے وقت استعمال کرنے کا ہے، نہ کہ پوری رات
حدیث نمبر: 1275
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ فِطْرِ بْنِ خَلِيفَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " غَلَّقُوا أَبْوَابَكُمْ ، وَأَوْكُوا أَسْقِيَتَكُمْ ، وَخَمِّرُوا آنِيَتَكُمْ ، وَأَطْفِئُوا سُرُجَكُمْ ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لا يَفْتَحُ غَلَقًا ، وَلا يَحُلُّ وِكَاءً ، وَلا يَكْشِفُ غِطَاءً ، وَإِنَّ الْفُوَيْسِقَةَ رُبَّمَا أَضْرَمَتْ عَلَى أَهْلِ الْبَيْتِ بَيْتَهُمْ ، وَكُفُّوا فَوَاشِيَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ عِنْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ إِلَى أَنْ تَذْهَبَ فَجْوَةُ الْعِشَاءِ " .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے یہ فرمایا تھا۔ ” تم اپنے دروازے بند کر دو اور اپنے مشکیزے کے منہ بند کر دو اور اپنے برتنوں کو ڈھانپ دو اور اپنے چراغوں کو بجھا دو، کیونکہ شیطان (بند دروازوں) کو کھولتا نہیں ہے، اور بند مشکیزے کو کھولتا نہیں ہے، اور ڈھانپی ہوئی چیز کو ہٹاتا نہیں ہے، اور چوہا بعض اوقات گھر والوں سمیت گھر کو آگ لگا دیتا ہے تم اپنے مویشیوں اور گھر والوں کو سورج غروب ہونے کے قریب گھر میں روکے رکھو یہاں تک کہ رات کا ابتدائی حصہ گزر جائے ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الطهارة / حدیث: 1275
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح لغيره دون قوله: « .. مواشيكم» «الصحيحة» (3454)، «الإرواء» (1/ 80 - 81): م. * [فَوَاشِيَكُمْ] قال الشيخ: في الأصل: (مواشيكم)! والتصويب من صحيح ابن خزيمة (1/ 18 / 132)، وعنه تلقاه المؤلف. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط رجاله رجال الصحيح، جرير: هو ابن عبد الحميد.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1272»