کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: برتنوں کے احکام کا بیان - اس خبر کا ذکر جو واضح کرتی ہے کہ ان چیزوں کا حکم رات کو استعمال کرنے کا ہے، نہ کہ دن کو
حدیث نمبر: 1274
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَقِيلِ بْنِ مَعْقِلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " أَوْكُوا الأَسْقِيَةَ ، وَغَلِّقُوا الأَبْوَابَ إِذَا رَقَدْتُمْ بِاللَّيْلِ ، وَخَمِّرُوا الطَّعَامَ وَالشَّرَابَ ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْتِي ، فَإِنْ لَمْ يَجِدِ الْبَابَ مُغْلَقًا دَخَلَ ، وَإِنْ لَمْ يَجِدِ السِّقَاءَ مُوكًى شَرِبَ مِنْهُ ، وَإِنْ وَجَدَ الْبَابَ مُغْلَقًا وَالسِّقَاءَ مُوكًى لَمْ يَحْلِلْ وِكَاءً وَلَمْ يَفْتَحْ بَابًا مُغْلَقًا ، وَإِنْ لَمْ يَجِدْ أَحَدُكُمْ لإِنَائِهِ الَّذِي فِيهِ شَرَابُهُ مَا يُخَمِّرُهُ ، فَلْيَعْرِضْ عَلَيْهِ عُودًا " .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ ارشاد فرماتے تھے: مشکیزوں کا منہ بند کر دو جب تم رات کے وقت سونے لگو، اور کھانے پینے کی چیزوں کو ڈھانپ دو، کیونکہ شیطان آتا ہے، اگر اسے دروازہ بند نہیں ملتا تو وہ اندر آ جاتا ہے، اور اگر اسے مشکیزے کا منہ بند نہیں ملتا تو وہ اس میں سے پی لیتا ہے، لیکن اگر اسے دروازہ بند ملتا ہے۔ مشکیزے کا منہ بند ملتا ہے، تو وہ مشکیزے کے بند منہ کو کھول نہیں سکتا اور بند دروازے کو کھول نہیں سکتا اور اگر کسی شخص کو اپنے اس برتن جس میں اس کا مشروب موجود ہے اسے ڈھانپنے کے لئے کوئی چیز نہیں ملتی، تو وہ اس پر لکڑی ہی رکھ دے ۔“