کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: برتنوں کے احکام کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ ان چیزوں کا حکم رات کو استعمال کرنے کا ہے، نہ کہ دن کو
حدیث نمبر: 1273
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى عَبْدَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَرْبَعٍ ، وَنَهَانَا عَنْ خَمْسٍ ، إِذَا رَقَدْتَ فَأَغْلِقْ بَابَكَ ، وَأَوْكِ سِقَاءَكَ ، وَخَمِّرْ إِنَاءَكَ ، وَأَطْفِئْ مِصْبَاحَكَ ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لا يَفْتَحُ بَابًا ، وَلا يَحُلُّ وِكَاءً ، وَلا يَكْشِفُ غِطَاءً ، وَإِنَّ الْفَأْرَةَ الْفُوَيْسِقَةَ تُحْرِقُ عَلَى أَهْلِ الْبَيْتِ بَيْتَهُمْ ، وَلا تَأْكُلْ بِشِمَالِكَ ، وَلا تَشْرَبْ بِشِمَالِكَ ، وَلا تَمْشِ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ ، وَلا تَشْتَمِلِ الصَّمَّاءَ ، وَلا تَحْتَبِ فِي الدَّارِ مُفْضِيًا " .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں چار باتوں کا حکم دیا، اور آپ نے پانچ باتوں سے منع کیا (آپ نے یہ فرمایا تھا) جب تم سونے لگو تو اپنے دروازے کو بند کر دو اپنے مشکیزے کا منہ بند کر دو۔ اپنے برتن کو ڈھانپ دو اپنے چراغ کو بجھا دو، کیونکہ شیطان بند دروازے کو کھولتا نہیں ہے بند منہ والے مشکیزے کو کھولتا نہیں ہے۔ برتن پر پڑی ہوئی چیز کو ہٹاتا نہیں ہے، اور چوہا بعض اوقات گھر والوں سمیت گھر کو آگ لگا دیتا ہے، اور تم اپنے بائیں ہاتھ کے ذریعے نہ کھاؤ اپنے بائیں ہاتھ کے ذریعے نہ پیو اور صرف ایک جوتا پہن کر نہ چلو اور تم اشتمال صماء (کے طور پر کپڑے کو نہ پہنو) اور گھر میں احتباء کے طور پر اس طرح کپڑا نہ پہنو کہ شرم گاہ ظاہر ہوتی ہو۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الطهارة / حدیث: 1273
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح لغيره - «الصحيحة» (2974). * [الإزار] قال الشيخ: في الأصل، و «صبعة الرسالة»: (الدار)! فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط رجاله ثقات رجال الصحيح.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1270»