کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: استعمال شدہ پانی کے احکام کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ہمارے ذکر کردہ کی جواز کو واضح کر کے شک کو دور کرتی ہے
حدیث نمبر: 1267
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ ذَرٍّ ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ عُمَرَ ، فَقَالَ : إِنِّي أَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدِ الْمَاءَ ، فَقَالَ لا تُصَلِّ ، فَقَالَ عَمَّارٌ : أَمَا تَذْكُرُ إِذْ كُنْتُ أَنَا وَأَنْتَ فِي سَرِيَّةٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ وَضَرَبَ بِيَدِهِ الأَرْضَ ضَرْبَةً ، فَنَفَخَ فِي كَفِيهِ ، وَمَسَحَ وَجْهَهُ وَكَفِيهِ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : فِي تَعْلِيمِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّيَمُّمَ ، وَالاكْتِفَاءُ فِيهِ بِضَرْبَةٍ وَاحِدَةٍ لِلْوَجْهِ وَالْكَفِينِ أَبْيَنُ الْبَيَانِ بِأَنَّ الْمُؤَدَّى بِهِ الْفَرْضُ مَرَّةً جَائِزٌ أَنْ يُؤَدَّى بِهِ الْفَرْضُ ثَانِيًا ، وَذَاكَ أَنَّ الْمُتَيَمِّمَ عَلَيْهِ الْفَرْضُ أَنْ يُيَمِّمَ وَجْهَهُ وَكَفِيهِ جَمِيعًا ، فَلَمْا أَجَاز صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَدَاءَ الْفَرْضِ فِي التَّيَمُّمِ لِكَفِيهِ ، بِفَضْلِ مَا أَدَّى بِهِ فَرَضَ وَجْهِهِ صَحَّ ، أَنَّ التُّرَابَ الْمُؤَدَّى بِهِ الْفَرْضُ بِعُضْوٍ وَاحِدٍ جَائِزٌ ، أَنْ يُؤَدَّى بِهِ فَرَضُ الْعُضْوِ الثَّانِي بِهِ مَرَّةً أُخْرَى ، وَلَمْا صَحَّ ذَلِكَ فِي التَّيَمُّمِ ، صَحَّ ذَلِكَ فِي الْوُضُوءِ سَوَاءً .
عبدالرحمن بن ابزی بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا اس نے کہا: میں جنابت کا شکار ہو جاتا ہوں۔ مجھے پانی نہیں ملتا (تو مجھے کیا کرنا چاہئے) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم نماز نہ پڑھو (جب تک پانی نہیں مل جاتا) سیدنا عمار نے کہا: کیا آپ کو یہ بات یاد نہیں ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں، میں اور آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنگی مہم میں شریک ہوئے تھے۔ (تو میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہو گیا تھا) اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: تمہارے لئے اتنا ہی کافی تھا پھر آپ نے اپنا دست مبارک زمین پر مارا اور آپ نے اپنی ہتھیلیوں پر پھونک ماری اور اپنے چہرے اور دونوں بازوؤں پر مسح کر لیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا تیمم کی تعلیم دیتے ہوئے چہرے اور دونوں ہاتھوں کیلئے ایک ہی ضرف پر اکتفاء کرنا اس بات کا واضح بیان ہے کہ ایک مرتبہ میں جس کے ذریعے فرض کو ادا کیا گیا ہو اس کے ذریعے دوسرے فرض کو ادا کرنا جائز ہے۔ اس کی صورت یوں ہے کہ تیمم کرنے والے شخص پر یہ بات لازم ہے کہ وہ چہرے اور دونوں ہاتھوں کا مسح کرے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیمم میں دونوں ہاتھوں کیلئے اس چیز کو جائز قرار دیا ہے، جو اس کی ہتھیلی پر چہرے کے فرض کو ادا کرنے کے بعد بچا رہنے والا (غبار ہے) تو یہ بات درست ہو گی کہ وہ مٹی جس کے ذریعے ایک ظرف کے فرض کو ادا کیا گیا ہے۔ یہ بات جائز ہے کہ اس کے ذریعے دوسری مرتبہ میں دوسرے ظرف کے فرض کو ادا کیا جائے، تو جب یہ بات تیمم میں درست ہو گی تو وضو میں بھی درست ہو گی۔