کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: پانی کے احکام کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ اگر جنب کنویں میں گر جائے اور وہ غسل کی نیت رکھتا ہو تو کنویں کا پانی نجس ہو جاتا ہے
حدیث نمبر: 1259
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، بِبُسْتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَتَكِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنَا جُنُبٌ ، فَمَشَيْتُ مَعَهُ وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِي ، فَانْسَلَلْتُ مِنْهُ ، فَانْطَلَقْتُ ، فَاغْتَسَلْتُ ، ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَيْهِ فَجَلَسْتُ مَعَهُ ، فَقَالَ : " أَيْنَ كُنْتَ يَا أَبَا هِرٍّ ؟ " ، قُلْتُ : لَقِيتَنِي وَأَنَا جُنُبٌ ، فَكَرِهْتُ أَنْ أُجَالِسَكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْمُؤْمِنَ لا يَنْجُسُ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجھ سے ملاقات ہوئی۔ میں جنابت کی حالت میں تھا۔ میں آپ کے ساتھ چلتا رہا۔ آپ نے میرا ہاتھ پکڑا ہوا تھا پھر میں آپ کے پاس سے چلا گیا۔ میں واپس آیا اور میں نے غسل کیا پھر میں واپس آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کے ساتھ بیٹھ گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تم کہاں چلے گئے تھے۔ میں نے عرض کی: جب آپ سے میری ملاقات ہوئی تھی، تو میں جنابت کی حالت میں تھا۔ مجھے اچھا نہیں لگا کہ میں ایسی حالت میں آپ کے ساتھ بیٹھا رہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک مومن نجس نہیں ہوتا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الطهارة / حدیث: 1259
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (226): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي، رجاله رجال الشيخين خلا عبد الوارث العتكي، وهو صدوق وأبو رافع: اسمه نفيع بن رافع الصائغ المدني.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1256»