کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: پانی کے احکام کا بیان - اس دو تخصیصات میں سے ایک کا ذکر جو ہمارے ذکر کردہ خبر کے عمومیت کو خاص کرتی ہیں
حدیث نمبر: 1249
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَهُمْ أَنَّ أَبَاهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، حَدَّثَهُمْ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْمَاءِ وَمَا يَنُوبُهُ مِنَ الدَّوَابِّ وَالسِّبَاعِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كَانَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ لَمْ يُنَجِّسْهُ شَيْءٌ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْمَاءُ لا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ لَفْظَةٌ أُطْلِقَتْ عَلَى الْعُمُومِ تُسْتَعْمَلُ فِي بَعْضِ الأَحْوَالِ ، وَهُوَ الْمِيَاهُ الْكَثِيرَةُ الَّتِي لا تَحْتَمِلُ النَّجَاسَةَ ، فَتَطْهُرُ فِيهَا ، وَتَخُصُّ هَذِهِ اللَّفْظَةَ الَّتِي أُطْلِقَتْ عَلَى الْعُمُومِ وُرُودُ سُنَّةٍ وَهُوَ قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا كَانَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ لَمْ يُنَجِّسْهُ شَيْءٌ ، وَيَخُصَّ هَذَيْنِ الْخَبَرَيْنِ الإِجْمَاعُ عَلَى أَنَّ الْمَاءَ قَلِيلا كَانَ أَوْ كَثِيرًا فَغَيَّرَ طَعْمَهُ أَوْ لَوْنَهُ أَوْ رِيحَهُ نَجَاسَةٌ وَقَعَتْ فِيهِ أَنَّ ذَلِكَ الْمَاءَ نَجِسٌ بِهَذَا الإِجْمَاعِ الَّذِي يَخُصُّ عُمُومَ تِلْكَ اللَّفْظَةِ الْمُطْلَقَةِ الَّتِي ذَكَرْنَاهَا .
عبداللہ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں: ان کے والد سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ان لوگوں کو یہ بات بتائی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس پانی کے بارے میں دریافت کیا گیا: جس میں سے بعد میں جانور اور درندے بھی آ کر پی لیتے ہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” جب پانی دو قلے ہو، تو کوئی چیز اسے ناپاک نہیں کرتی ہے ۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ” پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی ہے “ یہاں الفاظ عمومی استعمال ہوئے ہیں لیکن بعض حالتوں میں اس پر عمل کیا جائے گا اور پانی سے مراد وہ پانی ہے، جو زیادہ ہوا اور وہ نجاست کو نہ اٹھاتا ہو۔ یہاں استعمال ہونے والے عمومی الفاظ کو ایک اور حدیث خاص کر دیتی ہے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے: ” جب پانی دو قلے ہو تو اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی ہے ۔“ اور ان دونوں روایات کو وہ اجماع خاص کر دیتا ہے، جو اس بات پر ہے، جب نجاست پانی میں گر کر اس کے ذائقے، رنگ یا بو کو تبدیل کر دے تو وہ پانی ناپاک ہو گا۔ اس بات پر اجماع ہے، جو ان مطلق الفاظ کے عموم کو خاص کر دیتا ہے جن کا ہم نے ذکر کیا ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الطهارة / حدیث: 1249
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (56)، «الإرواء» (23). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده على شرط الشيخين، أبو اسامة: هو حماد بن أسامة بن زيد القرشي مولاهم الكوفي.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1246»