کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: پانی کے احکام کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ اگر مکھی برتن میں گر جائے تو اسے ڈبو دیا جائے، کیونکہ اس کے ایک پر میں بیماری اور دوسرے میں شفا ہے
حدیث نمبر: 1247
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمْةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَامْقُلُوهُ ، فَإِنَّ فِي أَحَدِ جَنَاحَيْهِ دَاءً ، وَفِي الآخَرِ دَوَاءً " .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” جب مکھی کسی شخص کے برتن میں گر جائے، تو تم اسے پورا ڈبو دو کیونکہ اس کے ایک پر میں بیماری ہوتی ہے، اور دوسرے میں دوا ہوتی ہے ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الطهارة / حدیث: 1247
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظرما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، رجاله رجال الشيخين خلا سعيد بن خالد، وهو القارظي، الكناني المدني حليف بني زهرة، فإنه صدوق كما قال الحافظ في «التقريب» أو خثيمة: هو زهير بن حرب.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1244»