کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: پانی کے احکام کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی کیا کرے جب اس کے پانی یا شوربے میں کوئی ایسی چیز گر جائے جس میں سانس نہ ہو
حدیث نمبر: 1246
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلانَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَإِنَّ فِي أَحَدِ جَنَاحَيْهِ دَاءً ، وَفِي الآخَرِ شِفَاءً ، وَإِنَّهُ يَتَّقِي بِجَنَاحِهِ الَّذِي فِيهِ الدَّاءُ ، فَلْيَغْمِسْهُ كُلَّهُ ، ثُمَّ لِيَنْزِعْهُ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” جب مکھی کسی برتن میں گر جائے، تو اس مکھی کے ایک پر میں بیماری ہوتی ہے، اور دوسرے پر میں شفا ہوتی ہے وہ اپنے اس پر کو بچا کے رکھتی ہے، جس میں بیماری ہوتی ہے، تو آدمی کو چاہئے کہ مکمل طور پر اسے ڈبو کر باہر نکالے ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الطهارة / حدیث: 1246
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (38): خ. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط رجاله رجال الصحيح، خلا ابن عجلان، وهو محمد، فقد أخرج له مسلم في المتابعات، وهو صدوق حسن الحديث، فالسند حسن.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1243»