کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: پانی کے احکام کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ سمندر کے پانی سے وضو جائز نہیں
حدیث نمبر: 1243
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَلَمْةَ ، مِنْ آلِ بَنِي الأَزْرَقِ ، أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ أَبِي بُرْدَةَ ، وَهُوَ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا نَرْكَبُ الْبَحْرَ وَنَحْمِلُ مَعَنْا الْقَلِيلَ مِنَ الْمَاءِ ، فَإِنْ تَوَضَّأْنَا بِهِ عَطِشْنَا ، أَفَنَتَوَضَّأُ مِنْ مَاءِ الْبَحْرِ ؟ فَقَالَ : " هُوَ الطُّهُورُ مَاؤُهُ ، الْحِلُّ مَيْتَتُهُ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم سمندری سفر پر جاتے ہیں ہم اپنے ساتھ بہت تھوڑا سا پانی لے کر جاتے ہیں اگر ہم اس کے ذریعے وضو کر لیتے ہیں، تو ہم پیاسے رہ جاتے ہیں کیا ہم سمندری پانی کے ذریعے وضو کر لیا کریں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس کا پانی پاک ہے، اور اس کا مردار حلال ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الطهارة / حدیث: 1243
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (480)، «صحيح أبي داود» (76). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، رجاله كلهم ثقات.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1240»